How to remain positive during Coronavirus: Urdu Article by Memoona Arif

موجودہ صورتحال میں کس طرح سوچ کو مثبت رکھا جائے؟

یکم دسمبر 2019  کو دوست ملک چین میں سارس کو ویڈ۔٢ یعنی کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اگلے سال یعنی 2020 کی آمد تک چین میں کورونا وائرس کے بے شمار کیسز رپورٹ ہوئے اور المیہ یہ تھا یہ صرف کیسز ہی نہیں تھے شرح اموات بھی دن بدن بڑھنے لگی تھی چین نے اپنی سرحدیں بند کر دی ووہان میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا حالات نہ سنبھلے اموات کی تعداد بڑھتی گئی لیکن ڈاکٹروں نے ہمت نہیں ہاری اور اب یعنی جون 2020 میں چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔لیکن یہ وائرس صرف چین تک نہ محدود رہا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا ۔سپر پاور ملکوں نے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور آج یہ حال ہے کے تقریبا پوری دنیا میں چھ ملین سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ۔اموات کی تعداد بھی تین ملین سے بڑھ چکی ہے دنیا کا کونسا ملک ہے جو پریشان نہیں ۔اکانومی تباہ و برباد ہو چکی ہے جگہ جگہ لوگ بے روزگار ہیں بھوکے ہیں پریشان ہیں۔عالمی وبا کا وقت ہے چاروں جانب اذیت ہی اذیت ہے لوگ اپنے پیاروں کا کفن دفن تک نہ کر سکتے ہیں ہر مخلوق پریشان ہے۔

 

 

covid19 virus

 

مختلف قصے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں کسی کے ماں باپ کو یہ مرض ہو گیا انہیں آئسولیشن میں رکھ دیا گیاکسی کے بچوں کو یہ مرض ہے کتنے ہی  دن ہوئے ان سے ملاقات بھی نہ ہو سکی کسماپرسی کا عجب عالم ہے جن پیاروں کو چھوکرکبھی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا آج ان سے دور رہنا پڑتا ہے کہ کہیں ہم اس بیماری میں مبتلا نہ ہو اور وہ بھی ہماری وجہ سے متاثر ہو جائیں۔کہیں تو زمین نے قیامت کا وہ منظر بھی دیکھا کہ جہاں ڈاکٹروں نے ایک بیٹے کو کورونا وائرس میں مبتلا ماں کی آخری خواہش کے تحت مرنے سے قبل بیٹے کو آگاہ کیا کہ آپ کی ماں آپ سے ملنا چاہتی ہے آپ کو آخری مرتبہ دیکھنا چاہتی ہے اور بیٹے نے آنے سے انکار کر دیا کہ کہیں وہ ان سے مل کر اس بیماری میں مبتلا نہ ہو جائے۔وہ بھی قیامت کا منظر تھا جب کورونا وائرس میں مبتلا باپ کی موت کے بعد اس کی میت کے کنارے صرف ایک بیٹی تھی اور کندھا دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔

‏ مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں کو بے پناہ پریشانیوں کا سامنا ہے گھروں میں کھانا نہیں ہے اور اگر ہے تو ہر گھر والے کو پورا نہیں ہے ۔آپ امیر ملکوں کو چھوڑئیے ذرا پاکستان جیسے غریب ملک کے بارے میں سوچئے کہ جہاں ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کے عوام کو بیماری سے مرنے دیں یا بھوک سے۔دنیا میں کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا نہ خوشیاں نہ دکھ ۔

موت سستی ہوگئی ہے اور زندگی مہنگی نفسا نفسی کا عالم ہے ۔لوگوں میں شعور کیکمی ہے ۔جہاں موت نہیں وہاں موت کا ڈر ہے۔کوئی ویکسین میسر نہیں لیکن ٹوٹکے مل رہے ہیں۔دن کا آغاز اموات کی خبروں سے ہوتا ہے اور اختتام متاثرہ لوگوں کی تعداد پر۔

غریب ملکوں کی حالت مزید ابتر ہے۔ پاکستان کو اب دوہری مصیبت کا سامنا ہے جب سے ٹڈیوں کی فوج نے حملہ کر دیا ہے۔فصل تباہ ہوگئ ہیں ۔اور ملک میں قحط کا خدشہ ہے۔دیہاڑی دار مزدور کے پاس تو پہلے ہی کھانے کو کچھ نہیں ہیں اور جو مدد فلاحی ادارے کر رہے ہیں قحط کے بعد اس امدادی کام کے بھی ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ آفات کا دور ہے دنیا پریشانی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔

 پاکستان میں ہر روز بڑھتی اموات کی تعداد خوف میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔جس کے باعث لوگوں کی قوت مدافعت کمزور ہو رہی ہے۔اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے شخص ہی کرونا کا بہترین شکار ہے۔

یہ تو وہ مشکلات ہیں جو سب کی سانجھی ہیں لوگ اپنی اپنی زندگی میں اس وبا کے باعث کون کون سی مشکلات کا شکار ہیں آپ کو اور مجھے اندازہ بھی نہیں۔

کیا آپ خوف کا شکار ہیں؟ کیا آپ کی سوچ کا زاویہ منفی ہو گیا ہے؟ کیا آپ کو کسی جانب سکھ نظر نہیں آ رہا؟تو مطلب آپ کو اپنے ذہن کی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔

اب آپ کہیں گے یہ ذہن کی آنکھیں کیا ہوتی ہیں تو سنیے آپ کا ذہن ہی آپ کو اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے جب آپ اپنے شعور کا استعمال کرتے ہیں تو ذہن کو بھی بینائی مل جاتی ہے۔ اب آپ اپنی ظاہری آنکھوں سے کچھ دیکھتے ہیں تو آپ کی ذہن کی آنکھیں آپ کو بتاتی ہیں کہ یہ چیز حقیقت ہے یا محض ایک جھوٹ۔لیکن آپ کی منفی سوچ ذہن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جس کے باعث اب آپ کچھ مثبت نہیں سوچ سکتے اور آپ وہی کچھ سچ سمجھ لیتے ہیں جو آپ کی ظاہری آنکھ نے دیکھا ہے۔

 پریشانی کا عالم تو برپا ہے کچھ چھ سے سات مہینے گزر چکے ہیں سماجی فاصلے,ہینڈ سینیٹائزر اور ماسک کا راگ الاپتے الاپتے لیکن ویکسین کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔لیکن اس سب کے باوجود کیا آپ یہ بھول گئے ہیں کہ الحمداللہ آپ کو ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا گیا ہے ۔اور ایک مسلمان کا ایمان دواؤں پر تو نہیں ہیں بلکہ اس رب پر ہے جو پوری دنیا کا خالق ہے وہی ایک ناقص العقل انسان کے دماغ میں مختلف دواؤں کے فارمولے ڈالتا ہے اور پھر بھی جب وہ چاہتا ہے تب ہی شفا ملتی ہے۔

یہ حقیقت جاننے کے باوجود بھی آپ اور میں خوف کا شکار ہے؟منفی رویے ہیں؟ ناامیدی اور مایوسی ہے؟ آج سے پہلے  آپ جتنی بھی بیماریوں میں مبتلا ہوئے آپ کتنی بیماریوں کے بارے میں جانتے تھے ؟یا ان کی دوایں تشخیص کرسکتے تھے؟ شاید اکا دکا معمولی بیماریوں کی دوائیں ۔کوئی تکلیف دہ مرض لگ گیا تو ڈاکٹر کی طرف بھاگے اس نے آپ کو دوایں لکھ دیں لیکن پہلی مرتبہ میں آپ کو آرام نہ آیا دوسری بار اس کے پاس گئے پھر سے اس نے دوائی لکھ دیں اس بار آپ کو آرام آ گیا آپ کی تکلیف میں کمی ہوگی کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس ڈاکٹر کا کمال ہے کہ جس نے پہلی بار آپ کو دوائی تجویز کی تھی جس سے آپ کو کوئی اثر نہیں پڑا تھا اور دوسری بار دوائی تجویز کرنے پر آپ کو شفا مل گئی؟تو جی نہیں یہ مکمل سچ نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کے اللہ نے جب آپ کے لئے بہتر سمجھا تب ہی آپ کو شفا ملی ۔ کیا یہ وجہ آپ کے لیے سوچ کو مثبت رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے؟

    کورونا سے بچاؤ کی اس جنگ میں الحمدللہ آپ صحت یاب ہیں ۔تو یہ رب تعالی کا آپ پر کرم ہے۔اور آپ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کے بنا اس کی مرضی کےآپ کو کوئی چیز بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔آپ محفوظ کسی ویکسین کی موجودگی سے نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کی رضا سے ہوں گے۔اس نے ہی آج تک آپ کو ہر موذی مرض سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور وہی آگے بھی رکھے گا کیا اس بات کا یقین بھی آپ کی سوچ مثبت رکھنے کے لئے کافی نہیں؟ آج سب کچھ بند ہے لیکن پھر بھی آپ کے اور میرے دسترخوان پر غذا موجود ہے تو کیا یہ اللہ کا کرم نہیں ہے؟ آپ اس بات کا یقین کیوں نہیں کر لیتے کیا اللہ آپ کو عزت دے رہا ہے پر آگے بھی وہی دے گا تو پھر پریشانی کس بات کی؟

 آپ اور میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے واپس جانا ہے اور آخرت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر میرے رب کا سامنا کرنا ہے اور اس کے بعد آنے والی زندگی ہماری دائمی زندگی ہوگی۔تو پھر ایسا کیا ہو گیا کے آپ اور میں ایک چھوٹے سے وائرس سے ڈرنے لگے موت کے خوف سے گھبرا گئے بجائے اپنے اطوار زندگی درست کرنے کے خود کو منفی سوچوں کی راہ کی جانب گامزن کر لیا۔

جو کوئی بھی اللہ کے توکل کی سیڑھی پر چڑھتا ہے اس کے دل سے بدگمانی ختم ہو جاتی ہے۔منزل تک پہنچنے کا راستہ صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔اور یہ بھی یقین ہو جاتا ہے کہ اگر اس بیچ میں کوئی مشکل پریشانی آئی تب اللہ ہی مدد کرے گا کیونکہ جس نے سیڑھی پر چڑھا دیا ہے وہ منزل تک ضرور پہنچا دے گا۔اگر آپ اللہ پر توکل کر لیں اس بات کا یقین کر لیں کے وائرس آپ کے آس پاس واقعی میں موجود ہے لیکن وہ اب تک نہ پہنچ سکا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے۔ ورنہ جس رفتار سے یہ وائرس لوگوں میں منتقل ہو رہا ہے کیا آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔لیکن دیکھ لیجےاللہ نے ابھی تک آپ کو صحت جیسی نعمت سے نوازا ہوا ہے۔

کیا سوچ کو مثبت رکھنے کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کے اس وائرس نے ہمیں زندگی گزارنے کا نیا ڈھنگ سکھایا ہے جو کہ کسی حد تک درست بھی ہے اب لوگ لاکھوں کروڑوں لگاکر شادیاں نہیں کر رہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق مسجدوں میں نکاح کر رہے ہیں ۔آپ کی ترجیحات بدل گئی ہیں آپ کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کے لگژری آپ کی ضرورت نہیں ہے وہ بہترین گاڑی جواب آپ کے گھر سے باہر نہ نکلنے کے باعث باہر کی باہر کھڑی رہ گئی ہے آپ کی زندگی میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔وہ نوکری جو آپ کو کم تنخواہ کی وجہ سے بری لگ رہی تھی آج آپ کو اس کی اہمیت سمجھ آگئی ہے آپ سمجھ چکے ہیں کہ نوکری ضروری ہے کوشش کرکے کم آمدنی میں بھی گزارا کیا جا سکتا ہے۔صحت جیسی نعمت کو آپ نے عرضاں سمجھا ہوا تھا آپ کا جو دل کرتا تھا آپ کھاتے پیتے تھے لیکن اب آپ اس بات پر دھیان دے رہے ہیں کے آپ وہ غذا کھائیں جس کے باعث آپ کی قوت مدافعت مضبوط ہو جائے۔ آپ نے صحت مندی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ آپ کو سیونگ کی اہمیت کا اندازہ ہو چکا ہے آپ کو اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ جتنی بھی رقم ہاتھ میں ہو اس کو خرچ کر دینا عقلمندی نہیں ہے بلکہ برے وقت کے لئے محفوظ کر لینا ہی دانش مندی ہے کیونکہ اس وقت صرف وہی لوگ امن میں ہے جو اپنی چادر کے مطابق پیر پھلا تے تھے۔

اور دنیاوی فائدہ کو چھوڑیں جناب کیا آپ کو اخروی فائدوں کا اندازہ بھی ہے؟ نہ جانے کتنے لوگ جو گمراہ تھے بھٹکے ہوئے تھے وہ آج اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں۔وہ لوگ جو کہتے تھے کہ جن کو دنیاوی معاملات کے باعث نماز کا وقت نہیں ملتا آج ان کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنے رب سے معافی مانگ لے۔

آپ خوف میں مبتلا ہیں؟ تو اللہ سے رجوع نہیں کرتے ؟  اس کے آگے سجدہ ریز ہوکر اس کی بڑائی اور وحدانیت کا اقرار کیوں نہیں کرتے کے وہی رب ہے جو اس دنیا کے نظام کو چلا رہا ہے اور وہی رب ہے جس نے اس چھوٹے سے وائرس کو بھیج کر ہم سب کو ہکا بکا کر دیا اور نظام زندگی روک دیا۔

آپ کے سائنسدان جو خلاؤں کے باسی بننے والے تھے آج ایک معمولی سے وائرس کی دوا نہیں ڈھونڈ پا رہے۔ یہ اللہ نے دکھایا ہے کہ وہ چاہتا ہے تو انسان پر  خلائوں کے راز بھی آشکار کر دیتا ہے اور اگر نہ چاہے تو انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی ایک چھوٹے سے وائرس کی دوا نہیں ڈھونڈ سکتا۔

 آپ کی سوچ مثبت رکھنے کے لئے ایک یہ بھی اہم پہلو ہے کہ اگر آپ کو موت سے خوف آ رہا ہے اردگرد موت رقص کرتی نظر آرہی ہے تو آپ اپنا دھیان توبہ کی طرف کیوں نہیں لگا لیتے۔ اگر موت اتنی ہی قریب نظر آ رہی ہے اور یہ وقت بھی قیامت تو نہیں ہے کے توبہ کے دروازے بند ہو گئے ہو تو آپ اللہ کے حضور معافی مانگ کر اپنی بخشش کیوں نہیں کروا لیتے کیونکہ موت تو برحق ہے ۔میں اور آپ ہی اس موت کو بھول بیٹھے تھے ورنہ یہ تو سب سے بڑی حقیقت ہے کورونا سے نہ سہی کسی اور وجہ سے واقع ہو جائے گی میں اور آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے تو کیا یہ اچھا نہیں ہوگیا کہ ہم پر پہلے ہی اس زندگی کی حقیقت کھل گئی اور اب اگر ہم چاہیں تو اپنے رب کو راضی کر کے اس کی جانب رجوع کرکے اپنی بخشش کروا سکتے ہیں ۔اور اس دائمی زندگی کی آسانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

 اگر آپ سوچیں تو یہ مشکل گھڑیاں ہمارے ایمان کو تازہ کرنے آئی ہے ہمارے ایمان کونئی روح  بخشنے آئی ہیں۔ہمیں اس بات کا یقین ہو جانا چاہیے کہ ہم جس دین کے پیروکار ہیں وہ برحق ہے جس حرام کو کھانے سے ہمارے خدا نے منع کردیا آج آپ نے اس کی ایک وجہ دیکھ لی کے ایک ریسرچ کے مطابق چمکاڈر کھانے کے ہی باعث لوگ کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے اور میرے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ حلال کھانے کی ترغیب دی اور آج آپ کو حرام کھانے کا نقصان بھی سمجھ آگیا۔ جس دین نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا اور نمازوں کے لئے وضو کی شرط رکھ دی بے شک وہی دین سچ ہے آج ہر ایک ڈاکٹر کورونا وائرس سے بچنے کے لیے صفائی ستھرائی کی تجویز دے رہا ہے ہاتھوں کو بار بار دھونا ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد حل ہے یہ بتایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپ منفی سوچ کر یا خوف میں مبتلا ہوکر اپنی قوت مدافعت کو کم کر رہے ہیں اور ہمارا یہ دین چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں بتا چکا ہے کے اچھا گمان رکھنا چاہیے کہ اچھا گمان رکھنے سے ہی سب اچھا ہوتا ہے۔ آپ اس دین کے ماننے والے ہیں اور پھر بھی پریشان ہیں؟

  قرآن میں میرا رحیم رب فرماتا ہے کہ اسکی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہونا وہ اپنے بندوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔تو پھر آپ اور میں کس باعث پریشان ہیں؟ ہم اس سے رحم کی التجا کیوں نہیں کر رہے ؟ اور اگر ہم کی التجا کر رہے ہیں تو اس کی رحمت پر یقین کیوں نہیں رکھتے ۔ صرف تو کل ہی آپ کے ایمان کو مضبوط کر سکتا ہے اور آپ کو ہر خوف سے نجات دلاسکتا ہے ۔اسی کے باعث آپ صرف اور صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور کوئی چیز آپ کو ڈرا نہیں سکتی کیونکہ آپ جانتے ہیں موت اور زندگی اس کے ہاتھ میں ہے اگر زندگی لکھی ہے تو کوئی مار نہیں سکتا اور اگر نہیں لکھی تو کوئی بچا نہیں سکتا ۔ لیکن توکل کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ آپ احتیاط ہی بھول جائیں اللہ آپ کی مدد کیوں کرے گا جب آپ ہی اپنی مدد نہیں کرنا چاہتے ۔آپ کا کام ہے اس سے رحم کی بھیک مانگنا احتیاط کرنا اور پھر پرسکون ہو جانا اب آپ اس بات پر یقین رکھیے کہ کرو نا ہی نہیں ہر قسم کے موذی مرض سے محفوظ رہیں گے اور اگر پھر بھی خدا نہ خواستہ کوئی اس بیماری کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر بھی اس کی مصلحت پر یقین رکھیے آپ نہیں جانتے وہ ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والا آپ کی بہتری جانتا ہے ۔

خود کو مضبوط بنانا ہی اس مشکل گھڑی میں آپ کا نصب العین ہونا چاہیے نہ کہ دماغ میں غلط سوچوں کو جگہ دینا ۔ صرف آپ خود ہی اس بیماری سے بچ سکتے ہیں اور اللہ ہی آپ کو بچا سکتا ہے جس وقت آپ اس چیز پر یقین کر لیں گے آپ کے دل کو سکون مل جائے گا اور آپ صرف اور صرف مثبت سوچیں۔

اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔(آمین)

میمونہ عارف۔-

Facebook Comments

You may also like...