Muskaraana Mana Hai: Urdu Satire (Mazaah) by Asma Tariq

   مسکرانا منع ہے – اسماء طارق

رونا بھی ایک آرٹ ہے ،ایک فن ہے اور کچھ لوگ اس فن سے اس قدر شناسا ہوتے ہیں کہ آپ بھی ان کی مہارت کی داد دئیے بغیر رہ نہیں سکتے ۔کچھ لوگ تو روتے بھی اس قدر پرلطیف طریقے سے ہیں کہ اگر آپ انہیں کبھی دیکھ لیں روتے ہوئے تو قربان  جائے  بغیر رہ نہ پائیں گے ، ادا اور شگفتگی سے بھرپور رونا اور کچھ لوگ اس قدر  بے ڈھنگے  اور بےسرے  طریقے سے روتے ہیں کہ اگر آپ ان پر پہلے قربان جا چکے ہیں تو اب پچھتا رہے ہیں ۔جی ہاں رونے کے بھی سر ہوتے ہیں کچھ لوگ  بغیر آنسو کے روتے ہیں ان کی آواز ہی انکا رونا ہے اس کیٹیگری میں عموما بچے اور خاصا خاص کچھ مرد اور خواتین شامل ہیں جو حالات کے مارے ہر وقت روتے رہتے ہیں   اور کچھ لوگ اس قدر آنسو  بہاتے ہیں کہ آپ کو وہم ہونے لگتا ہے کہ اب سیلاب آیا،  اب آیا ۔اس کیٹیگری میں خواتین  عام اور خاص دونوں لخاظ سے  شامل ہیں یہ لوگ مگرمچھ کے آنسوؤں کو  آئیڈیل مانتے ہیں۔جہاں رونا آرٹ اور فن ہے وہیں  ایک ہتھیار بھی ہے جہاں سب ہتھیار کام آنا چھوڑ دیں وہاں یہ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ہتھیار عموما کام دیتا ہے ۔اس ہتھیار کو استعمال کرنے والے صارفین میں بچے اور خواتین سرفہرست ہیں اور یہ صارف اس کے استعمال سے بخوبی واقف بھی ہیں ۔جب بچے کو لگتا ہے اسکی بات نہیں مانی جائے گی تو وہ رونا شروع کر دیتا ہے اور رونے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ اپنے پیاروں کی آنکھوں میں دیکھا نہیں جا تا پھر  ماں باپ کو بچے کی بات ماننی پڑتی ہے۔اسی طرح یہ خواتین کا بھی ہتھیار ہے وہ اس کے استعمال سے اپنی بات منوانا خوب جانتی ہیں بیٹی ہو  یا بہن ہو، بیوی ہو یا ماں سب اسکے استعمال سے واقف  ہیں اور کچھ خواتین تو اس قدر پکی صارف ہیں کہ وہ تو بات بھی کریں تو ان کی آنکھ سے آنسو چھلکنے لگتا ہے اور  کچھ تو غم ہو یا خوشی  روئے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔

 

 

Muskaraana Mana Hai Urdu Satire by Asma Tariq

 

اب تو مرد بھی  رو تے ہیں کبھی کہا جاتا تھا کہ مرد کو رونا زیب نہیں دیتا مگر پھر مردوں نے اس کے خلاف تحریک چلائی کہ ہمیں بھی حق دیا جائے اس لئے اب مرد بھی دل کھول کر روتے ہیں ۔کچھ کا  سارا رونا  تو اوپر والا رونا ہے اور کچھ  ہوتے ہی نازک مزاج  ہیں ان کا اپنا رونا ہوتا ہے ۔

ویسے  رونا کوئی بری بات نہیں ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرد ہو، عورتیں ہو یا بچے ہو یہ ہر ایک کا بنیادی حق مگر یہ رونا اس قدر رونا نہ ہو کہ لوگ تنگ آ جائے ۔اسی طرح رونا رونے والوں میں بھی فرق ہوتا ہے آپ نے  کسی حسینہ کو روتے ہوئے دیکھا ہو تو معلوم ہو گا کہ اس کے رونے میں بھی ادا ہے، بانک پن ہے  ۔ اسی طرح رونا بھی آپکے گھر گھرانے  اور طور طریقوں کا  پتا بتاتا ہے   اور آپ کو ایک  تہذیب یافتہ اور غیر تہذیب یافتہ کے رونے میں فرق ملے گا ۔کچھ لوگوں کے رونے میں اس قدر اٹریکشن ہوتی ہے کہ دوسرے بھی رو پڑتے ہیں انہیں بھی وہ درد اپنے اندر  محسوس ہوتا ہے اس فن میں مہارت رکھنے والے اداکار اور بیویاں  ہیں ۔ اسی طرح رونا رسم بھی ہے جیسے کسی کے مرنے پر رونا اور اس رونے میں خاندان کی کچھ خواتین نے پی ایچ ڈی کر رہی ہوتی ہے انہیں دکھ ہو یا نہ مگر رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں اور  رخصتی پر رونا بھی رسم ہے کہا جاتا ہے کہ دلہن اس لیے روتی ہے کہ آگے دلہا کو  رلانا  ہوتا ہے خیر  یہ مذاق ہے وہ بچاری تو اپنے والدین اور سہیلیوں سے بچھڑنے پر  روتی ہے مگر آجکل اسے میک اپ کی وجہ سے احتیاط بھرتنی پڑتی ہے ۔

جہاں رونا فن اور ہتھیار ہے وہیں رونا  ایک  نعمت بھی ہے  جس سے  دل  کے کئی بوجھ آنسوؤں میں بدل کر دھل جاتے ہیں  اور انسان کو  ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں ۔خدا کی یاد میں رونا تو  عین نجات ہے جو خالق کے قریب کر دیتا ہے اور ہر غم سے چھٹکارا دیتا ہے ۔اپنی غلطیوں کی معافی کے خاطر رو نا بھی  کسی نعمت سے کم نہیں جو آپ کو پاک صاف کر دیتا ہے ۔ اب تو میڈیکل سائنس بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ رونا کسی نعمت سے کم نہیں جہاں یہ آنکھوں کو صاف کرتا ہے وہیں جذبات کے کنٹرول میں بھی اہم کردار ادا کر تا ہے ۔شکوے شکایتوں، ملال اور افسردگی سے بھرا دل اگر رو لے تو اسے افاقہ مل جاتا ہے ۔اسی طرح  ماہرین کے مطابق کبھی کبھی رو لینا بہت بہتر ہے  بجائے اس کے کہ آپ سب کچھ اندر دل میں دباتے رہو جوکہ نقصان دہ ہے ۔

اب ایک رونا ہے جو آجکل کا رونا ہے اور جو   ہر کوئی رو رہا ہے  ۔ہاں جی آجکل تو عام آدمی سے لے کر افسران تک، تاجروں سے لے کر سیاست دانوں تک سب رو رہے ہیں کوئی حالات کو رو رہا ہے کوئی اپنے آپ کو رو رہا ہے ۔کوئی دوسروں کی حرکات و سکنات پر رو رہا ہے… حکومتیں اپوزیشن کو رو رہی ہیں اور اپوزیشن حکومت کو ۔عوام حالات کو اور حالات ملک کو اور اسی طرح چل سو چل یہ رونا دھونا جاری ہے ۔اور یہ سب لکھ کر تو مجھے بھی رونا آگیا ہے ۔

 

Reproduced with permission of author. Asma Tariq’s contributions may also be published on other online papers. 

 

Facebook Comments

You may also like...