Pak-India War of 1965: Munawar Khan Awan

پاک بھارت جنگ 1965 کا فاتح اور فیصلہ کن ھیرو

 

میجر منور خان اعوان چکوال/تلہ گنگ کے گاؤں جھاٹلہ میں پیدا ھوئے۔ان کا تعلق21 آزاد کشمیررجمنٹ سے تھا۔ 1948 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ان کے کارناموں کے اعتراف کے طور پر انہیں تمغہ بسالت عطا کیا گیا۔ اگست 1965 میں پاکستان نےآپریشن جبرالٹر شروع کیا اس آپریشن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں اپنی فورسسز داخل کر کے وہاں کی مقامی مسلمان آبادی کی حمایت حاصل کر کے وہاں پر موجود قابض بھارتی فوج کے خلاف گوریلا جنگ کرنا تھا تا کہ قابض فوج کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا سکے۔  اس مقصد کے حصول کے لیئے پاکستان نے دس فورسسزاگست 1965 کے پہلے ہفتے میں  مقبوضہ کشمیرکے مختلف علاقوں  میں داخل کیں لیکن بدقسمتی سے دس میں سے نو فورسسز بھارتی فوج کا دباؤ برداشت نہ کر سکیں اور  اگست کے دوسرے ہی ہفتے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا کر واپس آزاد کشمیر آ گئیں۔ صرف ایک فورس جسکا نام غزنوی فورس تھا اور اس کے کمانڈر کا نام ” میجر منور خان اعوان ” تھا  بھارتی فوج کے خلاف ڈٹ گئ

 

۔دوران جنگ میجر منور خان کا خفیہ نام بریگیڈئیر رضا تھا۔ اس فورس نے مقبوضہ کشمیر میں راجوری ویلی اور پونچھ ویلی میں بھارتی فوج کے خلاف زبردست جارحانہ کاروائیاں شروع کر دیں ۔ غزنوی فورس 600 افراد پر مشتمل تھی جبکہ اس کے مد مقابل بھارتی فوج کا پچیسواں ڈویژن دو اضافی بریگیڈوں کے ساتھ موجود تھا۔  گویا غزنوی فورس کی تعداد ایک بٹالین سے بھی کم تھی جبکہ اس کا مقابلہ دشمن کی پندرہ بٹالینوں سے تھا ۔ میجر منور خان اعوان نے آپریشن کے آغاز میں ہی بھارتی فوج اور بھارتی پولیس کے کئی کیمپوں پر بیک وقت چھاپہ مار کاروائیوں کے ذریعے وہاں پر موجود چار ہزار سے زائد مسلمان کشمیری بچوں اور عورتوں کو رہا کروا لیا۔ اس کاروائی نے وہاں کی مقامی مسلمان آبادی کے دل جیت لیئے ۔ میجر منور خان اعوان نے دوسرا اہم کام یہ کیا کہ وہاں کی مقامی آبادی کو یہ یقین دلایا کہ ہم گوریلا جنگ کی حکمت عملی” ہٹ اینڈ رن” پر عمل نہیں کریں گے بلکہ ہم مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اس نئی حکمت عملی نے مقامی لوگوں کے حوصلے بلند کر دیئے اور وہ میجر منور خان کی فورس کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔

 

 13 اگست 1965 تک میجر منور خان نے مینڈھر، منڈی اور پونچھ شہرسے دشمن کی ساتویں سکھ بٹالین کو شکست دے کر قبضہ کر لیا ۔ بھارتی فوج نے ایک بریگیڈ سے جوابی حملہ کیا جو بری طرح ناکام ہوا اور دشمن سینکڑوں لاشیں ہتھیار ، گولا بارود چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ 18 اگست 1965 کو میجر منور خان نے بدھل چھاؤنی جو لائن آف کنٹرول سے 63 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی پر اچانک حملہ کیا۔ دشمن اس غیر متوقع حملے کی تاب نہ لا سکا تقریباً دو گھنٹے کی لڑائی کے بعد لاشیں ، زخمی اور فوجی سازو سامان چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ دشمن نے بدھل چھاؤنی کا قبضہ چھڑوانے کے لیئے پے در پے تین جوابی حملے کیئے لیکن میجر منور خان نے نہایت مہارت سے تمام جوابی حملے ناکام بنا دیئے اور بدھل چھاؤنی پر بھی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا۔  میجر منور خان کی فورس نے دشمن کی نقل و حرکت روکنے کے لیئے راجوری اور پونچھ وادی میں کئی پل تباہ کر دیئے اور گھات لگا کر ایک سو پچیس فوجی گاڑیاں تباہ کر دیں اور ان میں موجود فوجی سازو سامان قبضے میں لے لیا۔ اسی طرح بھارتی فوج کے کئی ہتھیار اور ایمونیشن ڈمپ بھی تباہ کر دیئے۔

 بھارتی فوج اس دو ہزار مربع میل سے زائد علاقے میں مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ غزنوی فورس کے کمانڈر میجر منور خان اعوان  بھارتی فوج کے لیئے ایک ڈراؤنا خواب بن گئے ۔ مقامی مسلمان آبادی کے نوجوان جوق در جوق غزنوی فورس میں شامل ہونا شروع ہو گئے جبکہ ہندو اور سکھ کثیر تعداد میں ان علاقوں سے ہجرت کرنا شروع ہو گئے۔ ان حالات میں بھارتی فوج نے ایک شاطرانہ چال چلی۔ انہوں نے راجوری اور پونچھ وادی کے تمام شہروں اور گاؤں میں یہ اعلان کروا دیا کہ غزنوی فورس کمانڈر میجر منور خان اعوان کا سر کاٹ کر لانے والے کو ایک لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 1965 میں ایک لاکھ روپے کی کتنی قدر ہو گی۔ یقیناً موجودہ دور کے کئی کروڑ کے برابر ہو گی۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کے غیور مسلمانوں نے بھارتی فوج کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا اور میجر منور خان کا بھرپور ساتھ دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً دو ماہ کے عرصے میں غزنوی فورس نے دشمن کے خلاف سترہ لڑائیاں لڑیں اور اللہ رب العزت نے ہر لڑائی میں انہیں زبردست فتح عطا کی۔ راجوری شہر اور راجوری چھاؤنی کا شمار اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تین بڑی چھاؤنیوں میں ہوتا تھا۔ راجوری چھاؤنی میں بھارت کے پچیسویں ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر اور دو اضافی بریگیڈ موجود تھے۔15 اور 16 ستمبر 1965 کی درمیانی رات میں میجر منور نے اس چھاؤنی پر بھرپور حملہ کر دیا ۔  غزنوی فورس کے گوریلوں نے تقریباً 5 گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد اس چھاؤنی پر قبضہ کر لیا ، دشمن دو سو سے زائد لاشیں اور کثیر فوجی ساز و سامان چھوڑ کر فرار ہو گیا، راجوری شہر کے لوگ سفید جھنڈے لے کر چھتوں پر چڑھ گئے۔ راجوری شہر اور راجوری چھاؤنی پر قبضے کے بعد آخری حملہ تحصیل ریاسی پر کیا گیا ۔ اس حملے اور قبضے کے بعد میجر منور خان کی غزنوی فورس 2000 مربع میل کے وسیع علاقے پر مکمل قابض ہو چکی تھی اور اس علاقے کے تمام شہروں ، گاؤں اور تمام سرکاری عمارات پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔

 

 میجر منور خان اعوان نے اس علاقے میں اپنی حکومت قائم کر لی ، اپنے ڈی سی ، ایس پی، جج اور دیگر انتظامی عملہ مقرر کر دیا اور جی ایچ کیو کو پیغام بھیجا کہ اس علاقے کے لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیئے پاکستانی کرنسی کا انتظام کیا جائے۔ اس علاقے میں دوران جنگ چار مرتبہ پاکستان ائیر فورس کے کارگو طیارے نے پیرا شوٹس کے ذریعے ہتھیار ، ایمونیشن اور دیگر فوجی ساز و سامان ڈراپ کیا ۔ جنگ کے خاتمے تک مقامی آبادی کے نوجوانوں کی شمولیت سے غزنوی فورس کی تعداد 3000 سے تجاوز کر چکی تھی۔ مقبوضہ کشمیر پرآپریشن جبرالٹر اورآپریشن گرینڈ سلام کے پاکستانی حملے کو جواز بناتے ہوئے 6 ستمبر کو بھارت نے لاہور کی سرحد پر حملہ کر دیا۔ ہمارے آفیسر اور جوان بے جگری سے لڑے ، سینکڑوں قربانیاں دیں اور کئی  دن تک دشمن کو بی آر بی نہر پر روکے رکھا۔ اسی دوران بھارتی فوج شکر گڑھ اور ظفر وال کے علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے  ٹینکوں کی کثیر تعداد کے ساتھ چونڈہ تک آ پہنچی، پاکستانی فوج نے عظیم قربانیاں دے کر یہ حملہ ناکام بنا دیا لیکن بدقسمتی سے بی آر بی نہر ، ظفر وال، شکر گڑھ اور آزاد کشمیر میں درہ حاجی پیر پر بھارتی فوج کا قبضہ بدستور قائم رہا۔  22 اور 23 ستمبر 1965 کی درمیانی شب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دونوں ملکوں کی رضا مندی سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ۔ سلامتی کونسل میں موجود پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے مطالبہ کیا کہ بھارت لاہور اور ضلع سیالکوٹ کے سرحدی علاقوں پر قابض اپنی فوج کو واپس بلا لے کیونکہ یہ بین الاقوامی سرحد ہے لیکن بھارت نہ مانا ، اس نے مطالبہ کیا کہ جب تک پاکستان مقبوضہ کشمیر کے علاقے پاکستانی فورس سے خالی نہیں کرواتا اس وقت تک بھارت پاکستان کے سرحدی علاقے خالی نہیں کرے گا۔ صدر ایوب خان نے بھٹو کو بھارتی مطالبہ مان لینے کی ہدایت کر دی۔

 یوں اس لین دین میں میجر منور خان اعوان کے 2000 مربع میل سے زائد  فتح کردہ علاقے کے عوض پاکستان نے لاہور، سیالکوٹ اور درہ حاجی پیرکے علاقے بھارت سے واپس لیئے۔

 جنرل محمود احمد اپنی کتاب “ہسٹری آف انڈو پاک وار 1965” میں لکھتے ہیں کہ جی ایچ کیو کی طرف سے میجر منور خان اعوان کو یہ آرڈر دیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کے فتح کیئے ہوئے علاقے خالی کر کے واپس آ جاؤ  جس پر میجر منور خان نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ہم یہ علاقے بھارت کو واپس نہیں کریں گے کیونکہ یہ علاقے چھوڑنے کی صورت میں بھارتی فوج مقامی آبادی سے ہمارا ساتھ دینے کی وجہ سےانتقام لے گی لیکن جی ایچ کیو نہ مانا اور میجر منورکی فورس کو واپس آزاد کشمیر آنا پڑا۔  اور ان کے آنے کے بعد وہاں جو کچھ ہوا وہ سب جانتے ہیں۔

آزاد کشمیرمیں تعینات میجر جنرل اختر حسین نے جو سفارشات جی ایچ کیو کو بھیجیں ان میں کہا گیا تھا  کہ میجر منور خان اعوان کی عظیم فتوحات کے صلے میں انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز “نشان حیدر” عطا کیا جائے لیکن صدر ایوب خان نے اس اعزاز کو صرف شہدا کو عطا کرنے کی پالیسی کو برقرار رکھا۔  البتہ صدر ایوب کی طرف سے میجر منور خان کو “کنگ آف راجوری ” کا خطاب اور” ستارۂ جرأت ” کا اعزاز عطا کیا گیا۔  

 

 یوں تو پاکستان کی مسلح افواج کے کئی آفسروں اور جوانوں کی بہادری کا اعتراف بھارتی فوج نے بھی کیا لیکن میجر منور خان اعوان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ اب تک پاکستان کی مسلح افواج کے واحد آفیسر ہیں جن کی تصاویر بھارت نے اپنی دو فوٹو گیلریز جن میں سے ایک ہال آف فیم راجوری مقبوضہ کشمیر اور دوسری کماؤں ریجمینٹل سینٹر رانیکھیت چھاؤنی ریاست اتار کھنڈ میں آویزاں کی ہے۔ تصویر کے نیچے ہندی میں انکا نام میجر منور خان پاکستان آرمی اور نام کے نیچے ایک بہادر دشمن درج ہے۔

 

 

بھارتی فوجی مصنفین کی کتابوں سے اقتباسات

1۔  بھارتی فوج کی 3 کماؤں بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر کرنل سنہا اپنی بٹالین کی وار ڈائری میں لکھتے ہیں “دوران جنگ 1965 غزنوی فورس کی طرف سے پہنچائے گئے نقصانات نے ہماری سیکورٹی فورسسز کو سب سے زیادہ فکر مند کر دیاتھا”۔

2۔ایک ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر چترنجن سوانت ، وی ایس ایم) میجر منور کے بارے میں لکھتا ہے ، “غزنوی فورس کا کمانڈر میجر ملک منور خان اعوان ایک ہمت والا آدمی تھا اور وہ اپنے فائدے کے لیے منفی صورتحال کو کیسے بدلنا جانتا تھا۔

3۔بریگیڈیئر چترنجن سوانت ، وی ایس ایم) غزنوی فورس کے بارے میں لکھتے ہیں ، “صرف غزنویوں نے اپنے سرپرستوں کو دکھایا کہ انہوں نے ہندوستانی محافظوں کو مشکل وقت دے کر راجوری مینڈھر سیکٹر میں کیا حاصل کیا”۔

4۔غزنوی نے 6 اگست تک بدھل کے علاقے میں اپنا بیس کیمپ قائم کیا۔ ہندوستانیوں نے اس فورس پر حملہ کیا ، لیکن یہ اپنی جگہ کھڑی رہی ، جس سے دشمن کو بھاری جانی نقصان ہوا۔ 18 اگست تک ، غزنوی بدھل کے عملی کنٹرول میں تھا اور مقامی باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے رضاکارانہ طور پر اس میں شمولیت

اختیار کی۔ غزنوی جنگ کے دوران مغربی اور جنوب مغربی جموں کے وسیع علاقے پر حاوی رہی اور جنگ بندی کے بعد تک اسے واپس نہیں لیا گیا۔ (لوانٹینسٹی کنفلکٹ: لیفٹیننٹ کرنل ویویک چڈھا کا ایک تجزیہ)

5۔راجوری سیکٹر میں بھارتی فوج کی انسداد دراندازی کی کارروائیاں اچھی نہیں رہی۔ اس سیکٹر میں انڈین آرمی یونٹ مکمل طور پر غیر موثر تھے کہ رضا (میجر منور کا کوڈ نام)جنگ بندی کے بعدواپس چلا گیا ۔(پاکستان’ز ڈاؤن فال ان کشمیر- دی تھری انڈو-پاک وارز بائی کرنل ایم۔این۔گلاٹی)

6۔راجوری سیکٹر کے کنڈی بدھل کے علاقے میں غزنوی فورس کے حملہ آوروں کی انتظامیہ کا قیام ، اور یہ 1965 کی جنگ کے خاتمے کے بعد تک جاری رہا۔(انڈیا’ز وارز سنس انڈیپینڈینس بائی میجر جنرل سکھونت سنگھ)

7۔میجر جنرل سکھونت سنگھ کے مطابق ، “راجوری سیکٹر میں نمایاں فتوحات کو مستحکم نہیں کیا جا سکا کیونکہ باقاعدہ فوج کی طرف سے شروع کیئے جانے والے لینڈ آپریشنزگرینڈ سلام غزنوی فورس کے ساتھ لنک اپ نہ کر سکا۔(انڈیا’ز وارز سنس انڈیپینڈینس بائی میجر جنرل سکھونت سنگھ)

8۔ حال ہی میں ایک بھارتی مصنف سید نصیر نے ایک کتاب لکھی ہے جسکا نام ہے “ہند مسلم وارئیرز” اس کتاب میں بھی مصنف نے میجر منور خان اعوان کے بارے میں ایک باب شامل کیا ہے۔

ماضی میں جنگ کے بعد کچھ بین الاقوامی سطح کی مصلحتوں کی وجہ سے میجر منور خان اعوان کی فتوحات کو منظر عام پر نہ لایا گیا لیکن جب جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے تو اس دور میں جنرل محمود احمد نے ہسٹری آف انڈو پاک وار 1965 لکھی جس میں ان کی فتوحات کو خوب سراہا گیا۔

یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے

جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

 

Facebook Comments

You may also like...