Kanwal: Urdu Nazm by Subhan Karim

Kanwal: Urdu Nazm by Subhan Karim

نظم : کنول –  سبحان کریم

تم معصوم تھی کنول

اس جہاں کے بھیڑیوں کو پَرکھ نہ سکی

جو تیرے ساتھ رہ کر

اپنے مطلب کے دائروں کے

اس سوچ میں کھو جاتے

کہ تم انکے بچپن کی گڑیا ہو

جسے اپنی مرضی سے دلہن بنا کے رخصت کرتے

تم وہ کنول ہو جسے

مصنف نے ”مٹی کی حقیقت“ کے

کچھ پنّوں میں

تجھے بے بس ماں کی خاطر

کسی درندے کے ساتھ رہ کر

اپنی زندگی کی رات

سسکیاں لیے قربان کردی

تجھے نہیں معلوم

تجھےبھٹی میں دھکیلتے

تیرے معصوم جنازے کو اسلیے کندھا دیتے،

کہ تم کبھی انکی خیالی محبوبہ تھی

پرافسوس! تم بھیڑیوں کو پَرکھ نہ سکی

mfhussain-woman

 

You may also like...