Ghazal by Kawish Abbasi

غزل –  کاوش عباسی

آپ ہر چند کچھ کہیں گے نہیں
کچھ نہ کہنے سے غم چُھپیں گے نہیں

زخم دل کے کبھی بھریں گے نہیں
ہم کبھی چَین سے جِئیں گے نہیں

مطمئن ہوں گے زندگی سے لوگ
ہم یہ الزام خود پہ لیں گے نہیں

چند برسوں میں سانس پھُول گئی
سوچتے تھے کبھی تھکیں گے نہیں

ساری زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں
ہم مگر ایسا کر سکیں گے نہیں

ندی پھر جا مِلے گی دریا سے
فاصلے دیر تک رہیں گے نہیں

یہی تو اِک ہمارا مُونس ہے
ہم سُخَن ترک کر سکیں گے نہیں

مَوت بھی نیند ہی تو ہے کاوش
صرف یہ ہے کہ پھر اُٹھیں گے نہیں

Comments

comments

You may also like...