Poem on Odesa by Kokab Ali

Poem on Odesa [City in Ukraine] by Kokab Ali

 

یوکرائن کی سرزمین پر گزرنے والے زندگی کے ایک حصے کی محبت میں لکھی گئی ایک نظم

” اودیسا “

آؤ سمندر کی جانب

جانے والے رستوں پر

ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے

ایک مرتبہ پھر

دوپہر اور شام کے

خوبصورت درمیانی وقت میں

لمبی واک پر نکل جائیں

آؤ ایک مرتبہ پھر کیمرے کی آنکھ میں

ان مناظر کو محفوظ کریں

جن پر میر ادل فریفتہ ہے

اور اس زمیں کے سبھی مناظر پر میرا دل فریفتہ ہے

آؤ وقت کی طناب کھینچ ڈالیں

(کوکب علی )

 

 

 

Photo by Mary Winchester on Unsplash

 

 

Facebook Comments

You may also like...