Poem on Odessa: By Kokab Ali

Poem on Odessa : By Kokab Ali

 

” اودیسا “

وقت کے آئینے سے  جدائی کے

رنگ پھسلنے لگے

بارش کے  قطروں کے عکس میں

رقص کرتی خوشنما سیپیاں رُک گئیں !

بالکنی میں بیٹھی

 پیاری بڑھیا کےچائےکا کپ

ہاتھ میں تھما رہ گیا

راستے میں کھڑا ،

ہلکی پھوار میں چھتری لئے

چارلی چیپلن

دفعتاً حیرت سے مجھ کو  تکنے لگا

بادلوں کی اوٹ سے برستا زمانہ

 اپنا سینہ لئے  شدت ِکرب سے پھٹنے لگا

کسی زمین سے محبت کا عالم

کاغذ کی کشتی میں بہنے لگا !

( کوکب علی )

alexey-savchenko-t0-5h5tUje8-unsplash

 

Photo by Alexey Savchenko on Unsplash

 

 

Facebook Comments

You may also like...