Urdu Nazm by Kawish Abbasi

نظم: حقیقت –  کاوش عباسی

لوگوں کی پہلی خوش سلوکی پر
جان و دِل سے نِثار ہو جا نا
ہر گھڑی اُن کی آرزو رکھنا
مضطر و بے قرار ہو جانا
اُن سے مِلنے سے پھول کھِل اُٹھنا
کِشتِ دِل پُر بہار ہو جانا

کچھ دنوں بعد سوچی سمجھی ہوئی
بد سلوکی جب اُن کی ظاہر ہو
یا کوئی سطحی پن کُھلے اُن کا
اُس پہ کچھ اِس طرح تڑپ اُٹھنا
اِس قدر تلخ و زار ہو جانا
اُن کے بارے میں ، اپنے بارے میں
زہر اُگلتی ہزار قِسموں کی
اُلجھنوں کا شِکار ہو جانا
سوچتے رہنا ، کَھولتے رہنا
مُستقِل سوگوار ہو جانا
اتنی نفرت لہو میں بھَر لینا
اسقدر دلفگار ہو جانا
جیسے ہَر ایک مِلنے والے کا
ہم سے رِشتہ ہے کوئی گہرا سا
جیسے یہ میل جول لوگوں کا
دُنیا داری نہیں مُحبّت ہے
جیسے یہ گرمجوش ہا ؤ ہُو
اِس ضرورت پرست دُنیا کی
محض عادت نہیں ، حقیقت ہے

Comments

comments

You may also like...