Dard: Urdu Article by Sumra Akhlaq

سب کہتے ہیں درد مِٹ جائیں گے صبر کرو۔۔۔ یقین رکھو اور آگے بڑھو۔۔۔ یہ سب کہہ کر وہ اپنے راستے کو چل پڑھتے ہیں۔۔۔ کیونکہ کہنا بہت آسان ہے جبکہ محسوس کرنا مشکل۔۔۔ اسکے لئے صداقت درکار ہے رحمدلی اور دوسرے انسان کا درد محسوس کرنے والا قلب۔۔۔ جو ہر کسی کے پاس نہیں۔۔ آدم کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درد میں الفاظ نہیں احساس کام آتا ہے۔۔۔ صرف یہ کہنا کہ میں ساتھ ہوں تمہارے اور اسکے درد میں شریک رہنا غمزدہ کے دل میں آپکی اہمیت کی مہر لگا دیتا ہے۔۔۔ انسان کے مقدر میں جتنے بھی غم اور پریشانیاں لکھی گئی ہیں وہ محض اسی شخص نے جھیلنی ہیں۔۔۔ وہ اپنا درد کسی دوسرے شخص کی جھولی میں ڈالنے کا اختیار نہیں رکھتا۔۔۔درد و قرب دینے والی اور چُن لینے والی ذات بس ایک ہی ہے۔۔۔ صرف ایک۔۔۔

جہاں قرب ہے وہاں قرب سے فرار کا راستہ بھی موجود ہے۔۔۔ یہی تو ربِ کائنات کی شان ہے و خوبصورتی ہے کہ جہاں دردِ دل دیا وہیں دواِ دردِ دل بھی میسر کی کہ درد کو سہنے کی ہمت مل جائے۔۔۔ اور وہ دوا ہے صبر۔۔۔۔ کڑوی دوا ہے نگلنا مشکل ہے۔۔ پر نگل جانے کے بعد انعامات کی مٹھاس کی بھی پوری گارنٹی ہے۔۔۔ بعض لوگ دور اندیشی والی نظر نہیں رکھتے یعنی یہ نہیں دیکھ سکتے کہ پریشانیاں بس ایک مدت تک رہنے والی ہیں۔۔ وقت نے کروٹ بدلی اور یہاں حالات نے بدل جانا ہے۔۔۔

وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے وقت ایک سا رہے کا ہمیشہ اور اس سوچ کی بدولت اپنا حال و مستقبل سیاہ کر دیتے ہیں۔۔۔

جبکہ صبر حقیقت ہے جو خاموشی سے سب پریشانیاں سہہ جانے کا نام ہے۔۔۔اور اسے سہنے والے وہی لوگ ہیں جنہیں اپنے خدا پر اعتبار ہوتا ہے کہ جس نے مقدر لکھا وہی اسکو برداشت کرنے کی ہمت دے گا۔۔۔ یہی تو اصل دور اندیشی ہے۔۔۔ نجات ہے ۔۔۔اور ایسے خوش نصیب لوگ ہی صابرین کہلاتے ہیں جن کے لیے انکے رب کے ہاں انعامات و خوشخبری ہے۔۔۔

پر سوال یہ کہ کیا ہے سب آسان ہے؟ ہر گز نہیں۔۔۔

ہم جیسے گناہگاروں کے بس میں کہاں کہ ہم صبر کو ہضم کر سکیں۔۔۔ کہنے کو تین الفاظ پر مشتمل یہ صبر سہہ جانے پر پہاڑوں سے بھی زیادہ وزن رکھتا ہے دل پر۔۔۔ اور ہم ٹھہرے خصاکار۔۔ جنہیں گلے شکوں سے ہی فرصت نہیں۔۔۔

دراصل یہ ایک غلط فہمی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں ہم صبر کئے ہوئے ہیں۔۔۔

اصل میں تو وہ ذات جسے چن لے وہ سب کچھ کر گزرے جسکا اسے حکم ہو۔۔۔یہ بھی ایک عنایت ہے اللہ کی جس نے صبر جیسے جذبے کو تخلیق کیا۔۔

وہ جب کُن کہتا ہے تو فیاکن ہو جاتا۔۔

بس اتنی سی بات اور ہم نہ جانے کس بحث میں پڑے ہیں۔۔زرا سا غم سہہ نہیں سکتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے صبر کیا۔۔۔ ہاں انسان انسان کو  دھوکہ تو دے سکتا ہے پر خدا کو نہیں۔۔۔ بے شک وہی ذات جانے ہے اسکے صابرین کون ہیں۔۔۔ اللہ ہمیں صبر کرنے کا ظرف دے۔۔۔

 

Facebook Comments

You may also like...