Tabdeeli aur Danday Waali Qaum: Urdu Article by Shabbir Ahmad

pakistan-map-flag

تبدیلی اور ڈنڈے والی قوم

سال 2018 مجھے ایک سال میں دوسری بار چھٹیاں گزارنے پاکستان جانے کا موقع ملا۔ تبدیلی کے دعووں نے نہ صرف ملکی سیاسی ماحول کو جنجھوڑا بلکہ ساتھ ساتھ ایک عام آدمی کی سوچ پہ بھی مثبت اثرات ڈالے۔

میرے نزدیک یہ تبدیلی کے کافی مثبت اور دوررس اثرات ہیں۔ لیکن آخر ایسا کیوں اس کے پیچھے محرکات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔

خیبرپختونخوا تبدیلی کے حوالے سے پہلا صوبہ ہے جو اس دعوے اور نعرہ کا سہرا اپنے سر لیتا ہے اور کیوں نہ لے کچھ چیزوں اور اداروں کی نہ صرف ہیت بلکہ طور و اطوار بھی بدلے ہیں۔

دو قابل ذکر ہیں

۔پولیس1

۔ تعلیم2

الحمد اللہ پولیس سے پالا نہیں پڑا۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے ایک آپ بیتی بیان کرتا چلوں جس نے مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ کیا یہ واقعے تبدیلی ہے یا صرف ڈنڈا بدل گیا۔

میں والد صاحب کو کاروباری معاملات میں ہاتھ بٹانے کی اپنی سی کوشش میں صبح 6 بجے مارکیٹ پہنچا۔ کام نمٹایا اور واپسی کی راہ کو ہوا تبھی میرا پالا ایک سکول ٹیچر سے پڑا۔ اس ملاقات کی اندرونی تلخ روداد پھر کبھی بیان کروں گا فلحال ان استاد گرامی کو میں “ماسٹر اکبر” کے نام سے مخاطب کرتا ہوں جو اپنے حاضری کے وقت سے لیٹ ہو چکے تھے جس کے لیے انہے مجھ سے لفٹ لینا پڑی۔ ملاقات کے شروع کے چند لمحات اور رسمی علیک سلیک سے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ تھا کہ وہ اپنی حاضری کے لیے قدرے پریشان اور اس حاضری کی مانیٹرنگ کے حوالے سے ناخوش دکھائی دیے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے اساتذہ کرام کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بہت سختی کر رکھی ہے یہ سنا بہت بار تھا اس دن اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔ ہمارے معاشرے میں ماسٹر کا بہت بڑا کردار ہے۔ اور جب ہماری نسلوں کے معمار ہی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے اتنے غیر سنجیدہ ہوں گے اور سونے پہ سہاگہ جب قوم کے معماروں کو بھی ڈنڈے کے زور پر وقت کی پابندی اور فرائض کی انجام دہی کروائی جائے گی تو ان سے سیکھنے والے اس ملک کا مستقبل کہلانے والے کیسے ہوں گے۔

سات سو سال مغلوں کا ڈنڈا چلا۔ پھر انگریز آگے نوے سال انہوں نے بھی ڈنڈے کا خوب استعمال کیا۔ پھر اللہ کو ہماری حالت پہ رحم آیا اور ہم آزاد ہو گئے۔ ہم بدنی آزاد تو ہو گئے لیکن ذہنی غلام ہی رہے۔

بدنی آزادی کے 70 سال اور اکیسویں صدی کے 18 سال گزارنے کے بعد بھی ہماری ذہنی غلامی دور نہ ہوسکی ۔

ہم ڈنڈے والی قوم ہیں۔ ڈنڈا چلتا رہے تو ہم سیدھے رستے پر (بھلے وہ ڈنڈا کس عیاش جاگیردار کا ہو، کسی سر پھرے جرنیل کا ھو یا کسی کٹھپتلی سیاست دان کا)۔ نہیں تو ہم فورا جانورں کی طرح بھٹک جاتے ہیں۔

یہاں پھر وہی سوال جنم لیتا ہے کیا یہ واقعے تبدیلی ہے یا صرف ڈنڈا بدلا ہے؟

ذرا سوچیے۔

 

 

Comments

comments

You may also like...