Sajda: Urdu Article by Sumra Akhlaq

سجدہِ حق اور ہے اور سجدہِ فرض اور۔۔ دونوں میں لفظ سجدہ تو یکساں ہے لیکن حق اور فرض کے ساتھ مل جانے سے مفہوم کو بلکل الگ روپ دے دیتا ہے۔۔۔ جو لوگ سجدہِ حق کرتے ہیں وہ دنیاوی حرص و لالچ سے آزاد ہوتے ہیں۔۔۔ انکی حاجت صرف اور صرف قربتِ الٰہی ہوتی ہے جبکہ وہ لوگ جو سجدہ بس فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔۔۔ اچھا کرتے ہیں لیکن دل میں کئی ہسرتیں لے کے۔۔ ہسرتیں انکو جھکنے پر مجبور تو کر دیتی ہیں لیکن انکا دل جھکنے سے قاصر ہوتا ہے۔۔۔ وہ اللہ کے حضور پیش تو ہوتے ہیں دعا اور فریاد بھی کرتے ہیں لیکن دل میں یقین رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔۔۔ یقین اور ایمان کا رشتہ آپس میں بہت گہرا ہے۔۔۔ انسان کے دل میں اپنے ربِ کی حکمت پر یقین جتنا یقین اتنا ہی اسکا ایمان پختہ۔۔۔ اور جس نے یقین نہ کیا وہ گمراہ ہو گیا۔۔۔

جو لوگ دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور رکھتے ہیں اللہ انکے دلوں میں نور کی مزید چمک عطا کرتا ہے جو انکے چہروں سے جھلکتی ہے۔۔ یقیناً فیض وہی لوگ پاتے ہیں جو اُسکی حکمتِ عملی پر ایمان رکھتے ہیں اور تلخ حالات میں صبر کرتے ہیں۔۔۔ جہاں تک بات ہے سجدے کی۔۔ تو اسکو حرمت و امر کرنے والی ذات بھی نور ہی کی ہے یعنی پیکرِ نور مولا حسین علیہ سلام۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ فرض و حق میں بہت فرق ہے۔۔ اس بات کا ثبوت میدانِ کربلا کے سوا کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔۔ وہاں دو قسم کے سجود ہوئے۔۔۔ ایک جو نورِ محمد نے کیا۔۔ دوسرا قاتلِ نورِ محمد نے۔۔۔

ایک کا سجدہ امر ہوا اور دوسرے کا سجدہ رد۔۔

یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں یہ شعور ہے کہ ہمارا اللہ کو سجدہ کرنا اسکے آگے جھکنا حق ہے فرض؟ کیا ہم اس کے آگے محض اس لئے جھکتے ہیں کہ یہ جھکنے کا وقت ہے۔۔۔ یہ وہ اس لائق ہے کہ اس کے آگے جھکا جائے؟ اگر ربِ تعلی ہمارے سجدوں کے لائق ہے جو بے شک حق ہے تو کیا ہمارا دل بھی سجدوں ریز نہیں ہونا چاہیئے؟ کیا ہمیں اس بات کا بھی شعور ہے کہ ہم اسکے رو برو اسکی چاہ میں جھکے ہیں کہ دنیا کی چاہ میں؟

جو اُس کے عشق میں جھکا اسکا سب کچھ جھکا اور جسکو ہسرتوں نے جھکایا اسکا بس سر جھکا۔۔۔

آخر یہ ہسرت ہے جس چیز کی؟ دنیا میں مقام پانے کی؟ یہ لوگوں کی نظروں میں معتبر بننے کی؟

یہ ہسرت ایک پھندا ہے۔۔۔ دھوکا ہے جال ہےجس میں ہم سب جکڑے ہوئے ہیں۔۔۔

ہمیں یہ سمجھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کسکو سجدہ کر رہے ہیں اور کس سے فریاد کر رہے ہیں۔۔

سر کا جھکنا فرض اور دل کا جھکنا حق۔۔

ہم کس طرف ہیں؟ اگر سمجھ جائیں تو ہماری ہسرتیں اور بےجا خواہشات دُھواں بن اڑ جائیں اور ہم اپنے رب کی ہر عنایت پر شکر گزار ہوں۔۔ حق کا ساتھ دیں۔۔ باطل سے لڑیں سب سے پہلی جنگ جو خود سے شروع ہوتی ہے۔۔ غلط کو غلط کہیں اور رحم کی طلب صرف اللہ سے کریں۔۔۔۔ فیصلہ ہمارا ہے۔۔۔

 

 

Facebook Comments

You may also like...