Shifayat :Urdu Article by Sumra Akhlaq

شفافیت ایک نعمت ہے۔۔۔ ایک عنایت۔۔ موسمِ گرما میں چلتی ٹھنڈی ہوا۔۔۔ کسی نیک دل کی دعا۔۔۔اسکا تعلق سیدھے دل سے ہے اور دل کا تعلق اسکے خالق سے۔۔ جتنا انسان کا دل صاف اتنی ہی اس میں موجود شفافیت۔۔۔ یہ ایک خاص مقام اس لئے بھی رکھتی ہے کہ اگر یہ عنایت انسان کو حاصل ہو جائے تو لمحے بھر میں اسے عام سے خاص بنا دیتی ہے۔۔اسے غرور و تکبر سے دور لے جا نورِ حقیقی سے ملا دیتی ہے۔۔ انسان اگر اپنے دل پر چھائی غفلت و گمراہی کی گرد و غبار کو صاف کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ دل میں موجود حقیقت کو بھانپ سکتا ہے۔۔۔

شفاف چہرے سے زیادہ قیمتی ہے شفاف دل۔۔۔کہ یہ جتنا بھی بھٹک جائے اپنے اصل تک آ ہی جاتا ہے۔۔۔

یہ عنایت نہ صرف آدم کو خود سے شناسائی عطا کرتی ہے بلکہ مٹی سے پیدا ہونے والے ایک پتلے کو اشرف کر کہ اسکو مکمل زاویہ اور ظابطہِ حیات عطا کرتی ہے۔۔۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اگر کوئی اللہ کا نائب اسکے راستے ہموار کرنے اسکی زندگی میں آجائے۔۔۔انسان کو شفافیت یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ کیا اور اسکی حقیقت اور سچائی کیا ہے۔۔۔ سچ، حقیقت اور شفافیت کے مفہوم یکساں ہے۔۔۔ایسے جیسے کسی پُل کے ذریعے آپس میں ملے ہوئے ہوں۔۔۔۔ پُل پار کر کہ شفافیت حقیقت سے جا ملتی ہے اور حقیقت سچائی سے۔۔ان سب کا ملاپ نظریے کو جنم دیتا ہے جو اگر وہ پاک ذات عطا نہ کرے تو انسان دنیا میں بہت بے وُقط سا ہو کہ رہ جائے اور بے وُقط ہی رخصت ہو جائے۔۔۔ اسکا ہدف بھی بے معنی اور اسکی سوچ بھی بہت عام جبکہ اُسکو اللہ نے بہت خاص پیدا کیا۔۔۔ اسکو سب مخلوقات میں سے برتری عطا کی مگر افسوس کہ اس نے اِس برتری پر غور و فکر کرنے کی بجائے تکبر کیا اور بلآخر ہلاک ہو گیا۔۔

علم و فکر و فقر کے راستے دنیا سے جدا ہیں۔۔۔بغیر کسی بھی کششِ کے۔۔ان پر وہی لوگ چل سکتے ہیں جنہیں علم و فکر کے ساتھ ساتھ خود کی بھی تلاش ہو۔۔۔ ورنہ یہ انسان ازل سے دنیا کو یار بناتا ہے کیونکہ اُسے دنیا بہت پرکشش لگتی ہے۔۔۔جبکہ درحقیقت دنیا ایسے یہ کہ جیسے پیتل کے اوپر چڑھا سونے کا پانی جو پیتل کو بھی سونا بنا دے۔۔۔اور جوں جوں وقت گزرے سونے کا پانی ماند پڑتا جائے اور اصل حقیقت جھوٹ کی شکل میں سامنے آجائے ۔۔۔صد افسوس۔۔

ghazal

 

جبکہ وہ لوگ جو فکر و شفافیت کے راستے کو اپناتے ہیں جس میں نہ ہی کوئی کشش نہ چمک ہوتی ہے اور یہ دیکھنے میں بھی عام لگتا ہے۔۔۔ پر اس میں مشقت ہے سختی ہے۔۔۔لیکن نتیجہ بے حد خوبصورت۔۔۔۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ہیرے کی کان۔۔جو پہاڑوں کے اندر ہے چھپی ہوئی۔۔جس تک جانے کے کئی مراحل کئی مشکلات ہیں پر نتیجہ بہت قیمتی۔۔۔ اسی طرح انسان بھی اپنے دل میں چھپا ہیرا ڈھونڈ سکتا ہے اگر اُس میں چاہ ہے۔۔دل میں دنیا کا عین قیمتی خزانہ چھپا ہے جس کی تلاش بھی آسان نہیں۔۔۔

سمندر میں سے موتی نکالنا آساں ہے دل میں چھپے راز ڈھونڈنا مشکل۔۔۔

پر انسان کی چاہ ہی اسکی طرف پہلا قدم ہے۔۔۔ اگر چاہ موجود ہو تو چاہ پیدا کرنے والا بھیج دیتا ہے اپنے نائب کو جو اس انسان کے دل میں چھپے ہیرے کو تلاش کر اسے اسکے اصل میں تبدیل کردے۔۔۔ بھیجا گیا نائب ہی تو جوہری ہوتا ہے جو ہزاروں میں سے ہیرے کی پہچان کر لے۔۔۔ اور اپنی محنت سے اُسمیں موجود ہیرے کو عیاں کر ڈالے۔۔۔ بے شک خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنکو انکی حقیقت دکھانے جوہری آتے ہیں ورنہ وہ اپنی حقیقت سے نا آشنا رہتے۔۔۔

 

 

Facebook Comments

You may also like...