Soch: Urdu article by Sumra Akhlaq

سوچ کیا ہے اور سمجھ کیا ہے؟ کیا یہ دونوں الفاظ مشترکہ ہیں یا مختلف۔۔۔؟ کیا دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔۔۔یا نہیں؟

سوچ۔۔۔۔ یہ تو ایک نظریہ ہے اور سمجھ اس نظریے کو انگلی منزل تک لے جانے والا راستہ۔۔۔ اہم کیا ہے..؟ نظریے کو سمجھنا یہ نظریے کا جنم لینا۔۔۔؟ اصل حقیقت میں دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔۔ چیزوں کا آپس میں جڑے رہنا خوش آئین رہتا ہے ورنہ تو اکیلا سفر طے کرنا بظاہر جتنا فلمی لگتا ہے اصل میں اُتنا ہی کٹھن ہوتا ہے۔۔۔

دریا کا سمندر میں مل جانا خوش آئین ہے۔۔۔ ورنہ اکیلا دریا تو محدود ہے اور اگر سمندر سے جا ملے تو لامحدود بن جاتا ہے۔۔۔

جہاں بات ہے سوچ کی تو وہ کئی اقسام پر مشتمل ہے۔۔۔ اسکے کئی بہن بھائی ہیں۔۔۔ کچھ اچھے ہیں کچھ برے۔۔۔

اچھی سوچ کو سمجھنا ہمارے اختیار میں ہے ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔ یعنی یہ مرحلہ ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن سوچ کا آنا نہ آنا یہ ہمارے قابو میں نہیں۔۔ ہاں سمجھ ہمارے قابو میں ہے جو ہم اپنی زندگی کے گزشتہ تجربات سے قائم کرتے ہیں اور وہی ہماری شخصیت کا عنصر ہوتا ہے۔۔۔ تو اگر ہمیں سوچ پر اختیار ہی نہیں تو کہاں سے نمودار ہوتی ہیں؟ کون ہے انکو تخلیق کرنے والا؟ کیسے انسان محظ ایک سوچ کی بدولت دوسری ہستی کو کمتر اور چھوٹا سمجھتا ہے؟ یہ سوچ ہی تو ہے جو انسان کو یا تو خالق کے آگے معتبر کرتی ہے یا تو کمتر۔۔۔ سوال یہ کہ کیا سوچ کا آنا قدرتی ہے یا یہ اللہ کی طرف سے ہے؟؟ مانا اگر یہ اللہ کی طرف سے دل میں ظاہر ہوئی تو پھر اسکی بدولت کسی کی دل آزاری ممکن ہے؟؟ ہرگز نہیں۔۔۔ اللہ نے تو ہر دم جھکنے اور عدل کرنے کا حکم دیا نہ کہ اسی کی بنائی ہوئی تخلیق کو برا سمجھنے کا۔۔۔ بحث لمبی اور وقت مختصر۔۔۔۔

یہ سازش تو اسکی واحدانیت سے انکار کرنے والے کی ہے جو ازل سے اللہ سے کئے وعدے کو نبھاتا آ رہا ہے۔۔۔ جہاں دل میں رحمان ہے وہیں دل میں شیطان بھی ہے۔۔۔ جہاں ہمارے دل میں سوچ ہے بھلائی کی وہیں دل میں سوچ ہے برائی کی۔۔۔

اہم بات یہ ہے کہ حق و باطل کو سمجھنے کی رسائی اللہ نے ہمیں دے رکھی ہے کہ جو بھی اسکو سمجھنے کی کوشش کرے گا شیطانیت سے دور رہے گا۔۔۔

اور اگر انسان اسکو جھٹلائے گا تو وہ یقیناً شیطان کا پیروکار بن جائے گا۔۔

جنہوں نے خیر کو اپنایا وہ رحمان کے ہمراہ ہوئے اور جو شر کے ساتھی بنے وہ شیطان کے ہمراہ ہو گئے۔۔۔

انسان جو سمجھ بوجھ کو خاطر لاتا ہے اپنی سوچ کو بھی درست رکھتا ہے اور رحمان کے ساتھی ہوتے ہیں اور رحمان انکا ساتھی ہو جاتا ہے۔۔۔انکے نظریات کو حالات کی سختی بھی نہیں بدلتی اور وہ ہردم مثبت رہتے ہیں۔۔۔جبکہ شیطان انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر کہ آنکھوں پر بے حسی اور بدتہذیبی کی پٹی باندھ دیتا ہے کہ پھر انسان اسی سمت کو چلتا ہے جہاں وہ جانے کا کہے وہی عمل کرتا ہے جسمیں شیطان کو تسکین ہو۔۔۔یعنی وہ انسان کو لمحہ بہ لمحہ ایک دلدل میں دھکیلتا چلا جاتا جو نہ اسے نظر آئے نہ سمجھ۔۔۔۔بس انسان دنھستا چلا جائے اور واپسی انتہائی مشکل ہو جائے۔۔۔ لیکن اللہ نے توبہ کے دروازے موت تک انسان کے لئے کُھلے رکھے ہیں کہ شاید وہ رحمان کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائے اور واپس لوٹ آئے۔۔۔ جو کہ واحد اور بہترین نجات ہے۔۔۔

آدم کو اپنی سمجھ پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ کہیں سمجھ نا سمجھ میں وہ کچھ ایسا نہ کر جائے کہ اس سے خیر کی سمجھ بھی چھین لی جائے۔۔۔اور وہ دونوں جہانوں میں خالی ہاتھ رہ جائے۔۔۔

 

Deep Thoughts - Poem by Samar Fatima

 

Facebook Comments

You may also like...