Nikah: Urdu Article by Ayesha Salim Anjum

نکاح

تحریر: عائشہ سلیم انجم

الله نے اس دنیا میں ہر عورت کو حوا اور ہر مرد کو آدم بنا کر بھیجا ہے ۔ تاکہ آدم اپنی حوا سے مل کر اپنی زندگی مکمل کرے۔ آج ہم اپنے آس پاس دیکھیں تو کئی گھر برباد ہوئے نظر آتے ہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے اجڑے گھروں کی ؟ آخر کیوں چند دن ساتھ گزارنے کے بعد آدم اور حوا ایک دوسرے سے بیزار ہو جاتے ہیں ؟ آخر کیوں نکاح کے کچھ عرصہ بعد طلاق حوا کا مقدر بن جاتی ہے ؟ اس میں قصور کس کا ہے آدم کا ۔۔۔۔۔یاں حوا کا ۔۔۔؟ نکاح کے نام پر بنائے گئے گھروندے مختصر مدت کے بعد کیوں ٹوٹ جاتے ہیں ؟ ہم ان نقصانات کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں ۔۔۔۔۔ کیا وہ بزرگ ذمہ دار ہیں جو اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق اپنے بچوں کے لیے بہتر فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاں وہ بچے ذمہ دار ہیں جو اپنے بزرگوں کے کیے گئے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے اور رشتہ نبھانے کی بجائے اسے اجاڑنے بیٹھ جاتے ہیں یاں وہ حالات ذمہ دار ہیں جو مختلف مزاجوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے کے مخالف کھڑا کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔ہم نہیں جانتے کہ کون ذمہ دار ہے کیونکہ ہم نے کبھی وجہ جانںے کی کوشش ہی ںہیں کی ۔۔۔کیونکہ ہم یک طرفہ بات پر ایمان لے آنے والی قوم ہیں۔ ہماری بیٹی نے کہا کہ مجھے سسرال والے تنگ کرتے ہیں ، طعنے دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میری ہر بات پر انھیں اختلاف ہوتا ہے ، میں مزید اس گھر میں نہیں رہ سکتی ” اور ہم اس بات پر ایمان لے آئے کہ بچی ماں باپ کے سامنے اپنا دکھ بیان نہیں کرے گی تو کس سے کرے گی ، ہماری بچی جھوٹ تو بول ہی نہیں سکتی لحاظہ غلطی انھی کی ہے ۔۔۔ماں کہتی ہے “میری بچی ںے اتںا کچھ برداشت کر لیا ، میں اب اسے اس گھر میں رہنے نہیں دوں گی ” ۔آخر کیوں ۔ ؟ ماں باپ اس موقع پر اںدھے کیوں ہو جاتے ہیں ، کیا ہماری بیٹی انسانوں میں شمار نہیں ہوتی جس سے غلطی نہیں ہو گی ۔ ہم اسے یہ کیوں نہیں کہتے کہ بیٹا وہ تمہیں طعنہ نہیں دیتے ، تم سے اختلاف ںہیں کرتے بلکہ تمہاری اصلاح کرتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ تمہیں تنگ نہیں کرتے تمہیں اس سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ امتحان ہے تمہارا اور تمہیں اسے پاس کرنا ہے ۔ وہ اس کا حوصلہ کیوں نہیں بڑھاتے ۔ ہم صرف یک طرفہ پہلو دیکھتے ہیں ۔

بیٹی طلاق شدہ ہو تو لوگ باتیں بناتے ہیں کہ ضرور اس لڑکی میں کوئی خامی ہے تبھی سسرال والوں نے گھر کو بھیج دی ۔ آخر کیوں؟؟؟ کیا خامی عورت کا مقدر ہے ؟ کیا مرد میں خامی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ہم کیوں ایک طلاق شدہ عورت پر زندگی تںگ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی شریف گھرانے کی بیٹی کو طلاق ہو جائے تو لوگ اس کے کردار کو دو کوڑی کا کر دیتے ہیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آخر ایسی کیا وجہ تھی جو طلاق ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔کیا لڑکے کی عادات اچھی نہیں تھیں یاں اس کا رویہ اس عورت کے ساتھ برا تھا۔ یاں اپںی ناسمجھی کی وجہ سے وہ ایسا کر بیٹھے ۔۔۔۔بہت سے پہلو ہو سکتے ہیں مگر ہم خود کو باکردار گردانتے ہیں اور کسی طلاق شدہ میں کردار نام کی چیز نہیں پاتے۔ کیونکہ ہم یک طرفہ پہلو دیکھتے ہیں ۔

بیٹی کہتی “اماں سسرال والے اپنی خدمتیں کرواتے ہیں ، نندوں نے ناک میں دم کر کے رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔میاں صاحب کا رویہ بھی دن بدن بدلتا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ترکیب بتاؤ کہ سب سیدھے ہو جائیں ” اماں بیٹی کی اصلاح کرنے کی بجائے اسے کئی ٹوٹکے بتاتی ہے جس سے بقول ان کے سب اسکی انگلی پر ناچیں گے ۔۔۔ وہ اسے یہ نہیں کہتی کہ بیٹی عقل کا استعمال کر تیرے مجازی خدا کی والدہ ہیں انکا احترام کر ۔۔۔۔انھیں ماں کا مقام دے اور نندوں کو بہنوں کا مقام دے کچھ وقت لگے گا تجھے ان سے اور انھیں تجھ سے مانوس ہونےمیں اگر وہ غلط بھی ہوئے تو تیری محبت اںھیں راہ راست پر لے آئے گی ۔ ہم بیٹی کی بات سنتے ہیں اور اسے گھر کو جنت نہیں بلکہ جہنم بنانے کے آزمودہ ٹوٹکے بتا ڈالتے ہیں کہ وہ سب اپنے ہاتھوں سے تباہ کرے ۔ ہم اسے یہ نہیں کہتے کہ شوہر کا رویہ تیرے روکھے رویے کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہم اسے شوہر کو ںچانے کے طریقے بتا دیتے ہیں گویا شوہر نا ہو گیا بندر ہو گیا۔
اگر بڑے بوڑھوں کے فیصلے دو مختلف مزاجوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل کر دیتے ہیں تو ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سمجھوتا بھی ایک جانی مانی شے ہے ۔۔۔۔۔۔ہم دور بھاگنا شروع ہو جاتے ہیں بات بات پر طنز کے تیر اچھالے جاتے ہیں ۔ آخر کیوں ؟ کیا ہم بھول جاتے ہیں کہ

Two opposite charges attract each other

نہیں۔۔۔۔ہم بھولتے نہیں ہیں بلکہ حالات سے سمجھوتا نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم یک طرفہ ہو کر سوچتے ہیں ۔ ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں کہ میں ہی کیوں کمپرومائز کروں ؟ میں کیوں بدلوں خود کو ؟ میں کیوں اپنی خواہشات کآ گلا گھونٹ دوں ۔ ؟ میں ہی کیوں؟۔۔۔۔وہ کیوں ںہیں۔۔۔۔؟ اور اس میں میں کے چکر میں سب بگڑ جاتا ہے ۔ نکآح کے بولوں کی بنیاد پر بںے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔ماں باپ یک طرفہ ہو کر سوچتے ہیں کہ بیٹی صحیح ہے ، بڑے بوڑھے یک طرفہ ہو کر سوچتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ غلط نہیں ہو گا اور بچے تو انکار کر ہی نہیں سکتے ۔ ، سسرال والے یک طرفہ ہو کر سوچتے ہیں کہ بہو ہر چیز پر قبضہ جما لے گی اور بھائی یاں بیٹے کو ان سے دور کر دے گی گویا بہو نا ہو گئی جلاد ہو گیا ، بیٹی کہتی ہے کہ میں سب کے تلخ رویے برداشت کرتی ہوں اور ظلم سہتی ہوں گویا سسرال نہیں جیل ہو گیا ، بیٹا کہتا ہے کہ بیوی میرے ساتھ معاشرے میں چل نہیں پائے گی گویا وہ ڈیکوریشن پیس ہو گئی جسے صرف نمائش کے لیے لانا تھا ، بیٹی طلاق شدہ ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ اس میں خامیاں ہے گویا لڑکا دودھ کا دھلا ہے ، شوہر اور بیوی کے مزاج نا ملیں تو وہ میں کیوں ۔۔۔۔میں ہی کیوں ۔؟ کی گردآن میں سب برباد کر دیتے ہیں ؟ سب یک طرفہ سوچتے ہیں ۔ اور اس یک طرفہ سوچ میں وہ اپنی ذات کو مدنظر رکھتے ہیں۔ اس لیے نقصان ہوتا ہے ۔۔اور نقصان کسی کا بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ہوتا تو نقصان ہی ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔ایک گھاٹا ۔۔۔خواہ کسی کی بھی ذات میں ہو ۔

وجہ نا والدین ہے نا ہی اولاد اور نا ہی حالات ۔۔۔۔۔وجہ ہماری سوچ ہے ۔۔۔۔جو صرف ایک پہلو دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھول جاتے ہیں کہ سکا دوسرا پہلو بھی رکھتا ہے اور جو یہ جان لے وہ نقصان سے بچ جاتا ہے ۔ لیکن اکثریت نقصان میں ہوتی ہے کیونکہ ہمارے لوگ یک طرفہ پہلو دیکھنے کے عادی ہے ۔۔۔۔

SUGGESTED FOR YOU

Comments

comments

You may also like...