Dekh Kar Naam Tera, Yaad Aatay Hai: Urdu Ghazal by Numan Ijaz

Dekh Kar Naam Tera, Yaad Aatay Hai: Urdu Ghazal by Numan Ijaz

 

ghazal

 

دیکھ کر نام تیرا، یاد آتے ہیں سبھی قول و قرار باری باری
وہ جو بھول گئے خواب، یا جو بنے راہ میں دیوار باری باری

پہنچ کر گھر جب لیٹتا ہوں سونے کے لیے
آنکھوں میں بنا لیتے ہیں آنسو قطار باری باری

عشق تو ہے ہی اسکے قانون بھی نرالے ہیں
سُناتا ہے سزا ایک ساتھ، جنھیں کرتا ہے گرفتار باری باری

اُسکے ایک نظر دیکھنے سے میں اٰٹھ رہا ہوں میکدے سے
ساقیہ جام پر جام پِلا اور بڑھامہ کی مقدار باری باری

کسی ایک کے پیچھے ہٹنے سے، اُس ایک کو قرار آجائے
یہاں یہ سلسلہ مسلسل ہے، ہوتے ہیں دونوں بےقرار باری باری

نہ ڈھونڈ انھیں گلی گلی، عاشق ہیں یہ فقیر نہیں
ٹھہر جا کسی شہرا پر، پھر دیکھ جنازے سرِبازار باری باری

میں ہی نہیں مل رہا مجھے، شاید مل جاو تجھے
تُونے جو رکھے تھے نام، ان سبھی سے پُکار باری باری

تمھیں بھی بےوفائی کا شکوہ ہے مجھ سے، ذرا سوچ لو
اب تو یاد بھی نہیں نعمان، اتنے چھوڑے تیرے لیے یار باری باری

نعمانؔ اعجاز

Facebook Comments

You may also like...