Parveen Shakir: Her Personality and Flair: Urdu Article by Nadia Umber Lodhi

parveen shakir

parveen shakir

پروین شاکر شخصیت اور فن

Parveen Shakir: Her Personality and Flair: Urdu Article by Nadia Umber Lodhi

پاکستان کی سر زمین شعر وسخن کے حوالے سے بے حد شاداب ہے۔ستر کی دہائ میں خوشبو سے متعارف ہو نے والی پروین شاکر نے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا۔

پروین شاکر نے 24نومبر 1952 میں ادبی خانوادہ میں آنکھ کھو لی ۔آپ کے والد” سید شاکر حسن “اور نانا “عسکری حسن” اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ پروین شاکر نے ریڈیو پاکستان پہ پروگرامز میں حصہ لیا درس وتدر یس کے شعبے سے وابستہ رہی پھر بعد میں سر کاری ملازمت اختیار کر لی۔شاعری میں احمد ندیم قاسمی کی سر پرستی حاصل رہی۔آپ کا کلام انکے رسالہ فنون میں شائع ہو تا رہا۔1976میں پہلا شعری مجموعہ “خوشبو”کے نام سے منظر عام پہ آیا۔اس کے بعد “صدبرگ”،”خودکلامی،”انکار،””ماہ تمام” اور “کف آئینہ ” شائع ہوئے۔

پروین کی شاعری کلا سیکل اور جددیت کا حسین امتزاج ہے ۔رومانوی منظر نامہ ہجر و فراق،وصال یار،اداسی اور آرزوؤں کا عکس ہے۔پروین کی شاعری نسوانی جذبات سے مالا مال ہے وہ نسوانی پندار کا بھی خیال رکھتی ہیں اور بے باکانہ انداز بھی اپنا تی ہیں۔ پروین کے قلم نے پاکستانی عورت کو باہمت سوچ دی اظہار رائے کی آزادی سے روشناس کر وایا۔پروین کی شاعری کا فسوںُ پڑھنے والے کو اپنی گر فت میں لے لیتا ہے۔ایک ایسی تصوراتی دنیا جہاں محبوب کی بے اعتنائ بھی ہے اور پزیرائی بھی۔

سب سے نظر بچاکے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک دفعہ تو رک ُگئ گردش ماہ سال بھی

شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا

موجہ ہوائےکوئےیار ،کچھ تو مرا خیال بھی

پروین شاکر کی شاعری ان کے اپنے جذبات کی دلی واردات ہے۔ذاتی احساسات کا تال میل ہے۔ جو کبھی درد بن جاتا ہے کبھی دوا۔

دو گھڑی میسر ہو اسُ کا ہم سفر ہونا

پھر ہمیں گوارہ ہے اپنا در بدر ہونا

اک عذاب ۔پیہم ہے ایسے دور وحشت میں

زندگی کے چہرے پر اپنا چشم تر ہو نا

اب تو اسُکے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں

کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہو نا

سوچ کے پرندوں کو اک پناہ دیتا ہے

دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہو نا

اس ُ کے وصل کی ساعت ہم پہ آئ تو جانا

کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہو نا

انہیں دور حاضر کی شاعرات میں جو منفرد مقام ملا وہ پھر کسی اور کے حصے میں نہن آیا۔ان کے ہاں احساس اور جذبے کی جو شدت دیکھنے میں نظر آتی ہےکسی اور سخن ور کے پاس نہن۔

اپنے پہلے شعری مجموعے خوشبو میں ایک الھڑ نو جوان دوشیزہ کے شوخ جذبے نظر آتے ہیں-عمر کا وہ حصہ جس میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا نمایاں ہے-ایک داسی کی تڑپ ہے۔ہجر کی جلن ہے۔وصل کی راحت ہے۔دعا کی روشنی ہے۔عشق کی چا شنی ہے۔ان کی زندگی کے تلخ تجر بوں کا رنگ بعد کی شاعری میں چھلکتا ہے۔جہاں قسمت کی خرابی ،ازدواجی تعلق کا ٹوٹنا ، شوہر سے ناچا قی اور علیحد گی،ورکنگ ویمین کے مسائل ،سنگل پیرینٹس ہو ناوغیرہ پہ فو کس کیا گیا ہے۔ وہاں دنیا کے

جھمیلے ہوں یا غم حیات کے جھگڑے۔بہت نفاست سے لفظوں میں سمو ۓ گئے ہیں۔

عجب مکا ں ہے کہ جس میں مکین نہیں آتا

حدود ۔شہر میں کیا دل کہیں نہیں آتا

میں جس کے عشق میں گھر بار چھوڑ بیٹھی تھی

،یہی وہ شخص ہے ،مجھ کو یقین نہیں آتا

مزہ ہی شعر سنانے کا کچھ نہین جب تک

قصیدہ گویوں میں وہ نکتہ چین نہیں آتا

فشار جاں کے بہت ہیں اگر نظر آئیں

ہر اک زلزلہ زیر ۔زمیں نہیں آتا

بھر م ہے مہر ومہ نجم کا بھی بس جب تک

مقابل ان کے وہ روشن جبین نہیں آتا

پروین شاکر کا سفر ۔زندگی تلخیوں سے بھر پور تھایہی احساس بعد کی شاعری میں دکھائ دیتا ہے

مرنے سے پہلے مر گئے تھے

جینے سے کچھ ایسے ڈر گئے تھے

رستے میں جہاں تلک دیے تھے

سارے مرے ہمسفر گئے تھے

پروین شاکر بنیادی طور پہ غزل گو شاعرہ ہیں یہی صنف ان کی پہچان ہے۔

انکی شاعری کا اصل رنگ بھی یہ ہی ہے ۔

یہ ذہین اور بلند پایہ شاعرہ ایک ٹریفک حادثہ میں 26دسمبر1994میں ہم سے بچھڑ گئیں اور اپنے ابدی سفر پہ رونہ ہوئیں ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا مراد علی ہے -آپ اسلام آباد میں سپرد خاک ہیں ۔

مر جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

مرے شعر ہو نے کی گواہی دیں گے

نادیہ عنبر لودھی

اسلام آباد

پاکستان

 

 

You may also like...