Gulshan-e-Yaad Main Gar Aaj: Urdu Poem by Faiz Ahmed Faiz

Gulshan-e-Yaad Main Gar Aaj: Urdu Poem by Faiz Ahmed Faiz

 

کوئی عاشق کسی محبوبہ سے

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا
پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دو
عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بِسرا ہُوا درد
پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہی
آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گرچہ مِل بیٹھیں گے ہم تم تو ملاقات کے بعد
اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا
ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں تو ہر بات کے بیچ
اَن کہی بات کا موہُوم سا پردہ ہو گا
کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا تمہیں
کوئی مضمون وفا کا نہ جفا کا ہو گا

گردِ ایام کی تحریر کو دھونے کے لئے
تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں
تم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنو
اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں
تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو

فیض احمد فیض

 

faiz ahmad faiz and alys faiz

faiz ahmad faiz and alys faiz

 

Facebook Comments

You may also like...