توقع Tawaka: Urdu Poem by Urooj Nisar

توقع

توقع یہ کچھ نہیں فقط نادانی ہے

کہ درد ملے تو بنے دوا کوئی

حقیقت تو عیاں ہے انسان پر

کہ نہیں چاہتا اسے کوئی فقط خدا

نا جانے پھر بھی کیوں رہے طلب گار

اپنے جیسے ناتواں اور حقیر کا

حالانکہ مسلسل قریب ہے

شہ رگ سے بھی  زادہ  خدا

بن کہے سمجھ جائے سب وہ

ہر درد کی دواہ ہے وہ

Facebook Comments

You may also like...