Tooti Kamar: Urdu Nazm by Asma Tariq

Tooti Kamar: Urdu Nazm by Asma Tariq

 

   ٹوٹی کمر

ٹوٹی کمر لیے روز وہ بوڑھا

صبح کے آٹھ بجے

اوزار اٹھائے

گھر سے نکل پڑتا ہے

ابھی منڈی میں اسے دھکے کھانے ہیں

پھر شام کو گھر راشن بھی لانا ہے

گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں

اس کے پوتے پوتیاں بھوکے ہیں

کہ جن کے باپ کو

کسی ایمان والے نے اس لیے مار ڈالا

کہ اس کا ایمان کچا تھا

وہ بوڑھا جو بڑی شان سے

 محلے میں چلتا پھرتا تھا

اب ٹوٹی کمر لیے

اوزا اٹھائے ،

اسے منڈی جانا تھا

دھکے کھانے تھے۔

~ اسماء طارق ~

 

Tooti Qamar: Poem by Asma Tariq

 

 

 

Reproduced with permission of author. Asma Tariq’s contributions may also be published on other online papers. 

 

 

 

Facebook Comments

You may also like...