Shauq and Jazba: The Story of Village Girl Hira: By Bakhtawar Qadir Shaikh

Shauq and Jazba: The Story of Village Girl Hira: Afsana By Bakhtawar Qadir Shaikh

 

گاؤں میں سب ان پڑھ لوگ تھے مگر اسی گاؤں میں ہرا نام کی لڑکی رہتی تھی اس کو پڑھنے لکھنےکا بہت شوق تھا مگر اس کے والدین ان پڑھ اور بہت ہی غریب تھے

ہرا کا بابا کسی ہوٹل پر نوکر تھا اور ہرا کی ماں دوسرے گھروں میں کام کرتی تھی بس ایسے ہی ہر روز کام کرنے پر پیسے ملتے تھے تب کھانا کھاتے تھے اور اگر کبھی بیمار ہونے پر جس دن وہ کام پر نہ جاتے تھے تو ان کی اس دن کی تنخواہ کاٹی جاتی تھی پھر وہ کھانا کھائے بغیر سو جاتے تھے
ایک دن ہرا کا بابا جب ہرا کو شہر باہر گھمانے لے گیا تب ہرا نے دیکھا کے کچھ بچے اچھے کپڑے پہن کر اپنے والدین کے اسکول جا رہے ہیں ہرا نے اپنے بابا سے پوچھا بابا یہ اسکول ہے نہ مجھے بھی بہت پڑھنے کا شوق ہے آپ مجھے کیوں نہیں پڑھاتے، ہرا کے بابا کے آنکھوں میں آنسوؤں آگئے اپنی بیٹی کو گلے لگا کر کہا بیٹا آپ ہماری اکلوتی بیٹی ہے میرا بس چلے تو ساری دنیا کی خوشیاں آپکو دوں اور میرا بھی بہت دل کرتا ہے آپکو بہت پڑھاوں لکھاوں مگر بیٹا ہم بہت غریب ہے ہم تو کبھی کبھی کھانا کھائے بغیر سو جاتے ہیں

مگر بیٹا میں کیا کروں مجبور ہوں میرے پاس اتنے پیسے نہیں جو میں آپکی خواہش پوری کر سکوں
ہرا نے کہا بابا میں بھی گھروں کا کام کروں پھر پیسے ہونگے نہ تب میں روز اسکول جاؤں گی اور ایک دن بہت بڑی ٹیچر بنوں گی میں آپ دونوں بابا اور ماں کو بہت سک دوں گی آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھوں گی

ہرا کا بابا اپنے بیٹی کو گود میں اٹھا کے واپس اپنے گاؤں گیا سوچنے لگا پریشان ہوگیا اب میں کیسے اپنی بیٹی کی خواہش پوری کروں بیوی نے پوچھا آپ کیا سوچ رہے ہے پھر اس نے سب کچھ بتایا تب بیوی نے کہا آپ بس زیادہ نہ سوچے ہمارے گاؤں میں آج تک کوئی اسکول نہیں گیا تو یہ ہرا وہاں جا کر کیا کرے گی اور گاؤں والے بہت تانا دے گے ہمارا مذاق اڑائے گے

یہ باتیں سب ہرا نے سنی تو اپنی ماں سے کہا امی آپ لوگوں کی پرواہ نہ کرے ہماری زندگی ہے نہ ہمیں جینی ہے دوسرے لوگ کیا بھی سوچے ہمیں ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے ماں میں بہت پڑھنا لکھنا چاہتی ہوں

آپ دونوں کو بہت خوش رکھنا چاہتی ہوں یہ کہہ ہر ہرا وہاں سے چلی گئی یہ ہرا کی باتیں والدین پر اثر کر گئی پھر دونوں سوچنے لگے ہمیں کام کسی اور جگہ پہ کرنا چاہئے اور زیادہ کرنا چاہیے تاکہ پیسے بھی زیادہ ملے اور ہم ہرا کو پڑھا سکے

ویسے بھی ہم تو کبھی اسکول نہیں گئے لیکن ہم اپنی بیٹی کو پڑھائے لکھائے گے اور پڑھے لکھے آدمی کی بہت عزت ہوتی ہے میاں بیوی نے وعدی کر لیا تھا کے ہم محنت کر کے اپنی بیٹی کو پڑھائے گے

پھر ہرا کے والدین نے دن رات کام کر کے کچھ پیسے جمع کئیے اور ہرا کو اسکول کے لئیے نئے کپڑے لے کے دئیے اور والدین نے کسی اچھے اسکول میں داخلہ لے کے دی اور وہاں کے پرنسپل نے آدھی فیس بھی کم کردی

جب ہرا اپنے والدین کے ساتھ پہلے دن اسکول جا رہی تھی تب گاؤں کے کچھ لوگ یہ دیکھ کے بہت ہنسے لگے اور کہنے لگے کے اب یہ اسکول پڑھے گی پڑھ لکھ کے کیا کرے گی

چھوڑو یہ اسکول کچھ نہیں ہوتا کونسا یہ کچھ بن سکتی ہے ایک غریب کی بیٹی بھلا کیسے کامیاب بن سکتی ہے

ایک دن یونیورسٹی میں پڑ کے کسی کے ساتھ چکر چلا کے بھاگ جائے گی پھر کیا کرو گے

ہرا کے بابا کو یہ بات بہت بری لگی اور غصہ بھی آیا مگر اس نے مسکرا کر رہا ابھی ہم بہت غریب ضرور ہے لیکن ہمیں خدا پہ یقین ہے وہ ایک دن ہمارے بہت اچھے دن لائے گا اور ہرا ہماری اکلوتی بیٹی ہے ہمیں اس پہ پورا بھروسہ ہے یہ کبھی بھی ہماری عزت مٹی میں نہیں ملائے گی
اور وقت آنے دو وقت سب کچھ فیصلہ کر دے گا

اور آپ اب کچھ بھی بولے یا سوچے ہمیں فرق نہیں پڑتا اب ہم اسکول جا رہے ہیں ہمیں دیر ہو رہی ہے

جب ہرا اسکول گئی بہت خوش ہو رہی تھی ہر روز والدین کو بتاتی تھی آج مجھے ٹیچر نے شاباش کہا
مجھے اسکول میں بہت مزا آتا ہے

بس ایسے ہی دن گزرتے جا رہے تھے ہرا اور اس کے والدین بہت خوش تھے پھر یوں ہوا کے گاؤں والوں سے برداشت نہ ہوا کے ہمارے گاؤں میں آج تک کوئی اسکول نہیں گیا پھر یہ کیوں جا رہی وہ بھی اس گاؤں میں اس نوکر کی بیٹی جو سب سے غریب ہے

جب ہرا چھ کلاس میں پہنچی تب گاؤں والے اور بھی تانے دینے لگے اور برا بھلا کہنے لگے کے ایک تو غریب اوپر سے ایسی بڑی بڑی خواہشیں تم اپنی بیٹی کو پڑھا لکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو کے ہم سب لوگ اور ہماری اولاد جاہل ہے اور تمہاری بیٹی اسکول جا رہی ہے

اب بس تمہاری بیٹی اسکول نہیں جائے گی
اب فیصلہ کرو تم لوگ گاؤں میں رہو گے یا نہیں
اگر رہنا ہے تو اپنی بیٹی کو کل سے اسکول مت بھیجنا

مگر ہرا کے والدین نے کہا ہم کہاں جائے گے، کہاں رہے گے بہت بھیک مانگی ہرا کے والدین نے مگر انہوں نے نہیں سنی

پھر ہرا کے والدین نے کہا ٹھیک ہے ہم صبح ہم اس گاؤں سے چلے جائیں گے

ہرا کو جب یہ بات پتا چلی تو رو پڑی اور کہا یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے اب بس مجھے آگے نہیں پڑھنا

مگر والدین نے کہا نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے کیا ہم جو خواب سجائے بیٹھے ہیں وہ سب جھوٹ ہونگے کبھی سچ نہیں ہوگا

ہم تمہیں آگے پڑھائے گے اور ہم آج صبح کو یہ گاؤں چھوڑ کر چلے جائے گے

صبح کو جب گاؤں سے نکل پڑے تو راستے میں انہیں ایک آدمی ملا وہ انہیں اپنے گھر لے گیا وہ

وہی اس گھر میں میاں بیوی گھر کا سارا کام کر کے جو تنخواہ ہوتی تھی انہی پیسوں سے ہرا کو پڑھا

رہے تھے

جب ہرا میٹرک کلاس میں پہنچی اس نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور اسے ایک لاکھ روپے انعام میں ملا
اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے اور وہ پیسے ہرا کے پڑھائی کے لئیے رکھ دئیے اور ہرا نے یونیورسٹی میں ٹیسٹ دیا اور سیلیکٹ ہوگئی

ایک دن یوں ہوا کے کوئی آدمی ان گاؤں والوں سے کہہ رہا کے وہ اپنی ہرا بیٹی کو بہت پڑھا لکھا رہا ہے اب یونیورسٹی جائے گی

بہت نام روشن ہوگا اس کا کے ایک غریب کی بیٹی اتنا کچھ بن گئی

یہ بات گاؤں والوں سے برداشت نہیں ہوئی

اور جب ہرا یونیورسٹی جانے لگی تو کچھ مہینوں بعد گاؤں والوں نے منصوبہ تیار کیا

انہوں نے ہرا کے کلاس والے لڑکوں کو پیسے دئیے اور کہا وہ سامنے جو لڑکی ہے اس کے گندی تصویریں بناو اس کی عزت جو ہے وہ مٹی میں مل جائے اور جیسے پرنسیپل یونیورسٹی سے نکال دے

کچھ دنوں بعد وہ تصویریں اسکول کے دیوار پر لگا دی گئی

جب ہرا کو پتا چلا تو بہت رو پڑی چلاتی رہی میں یہ نہیں ہوں یہ سب جھوٹ ہے

اور جہاں وہ آدمی کے گھر رہ رہے تھے اس آدمی کو یہ سب پتا چلا تو ہرا کے والدین کو گھر سے نکال دیا اور پھر ہرا کے والدین بھی یونیورسٹی آ پہنچے انہوں نے یہ سب دیکھا تو دل بہت ٹوٹ پڑھا مگر ہرا نے والدین سے کہا یہ سب جھوٹ ہے کسی کی سازش ہے

مجھ پہ یقین کرے ماں بابا یہ سب جھوٹ ہے

ہرا نے وہ دیوار پہ لگی ہوئی تصویریں پھاڑ دی اور اس وقت پرنسپل بھی آگئے اس نے فیصلہ کیا کے ہرا کو یونیورسٹی سے نکال دینا ہے

جب ہرا اور اس کے والدین آفس گئے انہوں نے کہا ہمیں ہرا پر یقین ہے یہ کبھی ایسے کام نہیں کر سکتی ہماری اکلوتی بیٹی ہے لوگوں کی بہت سازشیں چل رہی ہے تاکہ ہرا آگے نہ پڑھ سکے
پھر اس وقت ہرا کی دوست آفس میں آئی اس نے پرنسپل کو سب کچھ بتایا کے میں نے دیکھا کوئی آدمی تھا اس نے ہماری کلاس کے کچھ لڑکوں کو پیسے دئیے یہ سب جھوٹی تصویریں بنانے کے لیئے

پرنسپل نے ان لڑکوں کو پولیس کے حوالے کیا اور انہوں نے سچائی بتائی تب ہرا کے والدین کو پتا چلے یہ ہمارے گاؤں کا آدمی ہے

الزام جھوٹا ثابت ہونے پر ہرا اور اس کے والدین نے اس لڑکی کا بہت شکر ادا کیا

اور ہرا کو پتا چلا جہاں ہم رہ رہے تھے اس آدمی نے ہمیں گھر سے نکال دیا ہے تب ہرا کی دوست بولی آپ میرے گھر آئے

مگر انہوں نے منع کیا کے ہم کب تک ایسے دوسروں کے گھروں میں رہتے رہے گے ہم باہر سڑک پر سو لے گے بس آپ ہرا کو اپنے ساتھ رکھ لے مگر ہرا کی دوست سب کو ساتھ میں اپنے گھر لے گئی وہ وہاں رہنے لگے

ہرا جب آخری سال میں پہنچی دن رات اور بھی محنت کرنے لگی کے مجھے پہلے نمبر پر آنا ہے اور اس کی محنت رنگ لائی

وہ امتحانات میں پہلے نمبر پر آگئے

یونیورسٹی میں ہرا کا نام بہت روشن ہوا اور اخبار میں بھی نام آیا

دوسرے دن یونیورسٹی میں بہت بڑا فکشن ہونے والا تھا

ہرا نے اپنے والدین کو اچھے اور نئے کپڑے لے کے دئیے

اور پھر اس دن یونیورسٹی کے پرنسپل نے اسٹیج پہ آکر بتایا ہرا بہت ہی بھادر لڑکی ہے اور بہت بڑی ہوشیار

ہرا نے ٹاپ کیا ہے تو ہم سب نے مل کر سوچا ہے کے اسی یونیورسٹی میں ہم ہرا کو ٹیچر رکھے گے
ہرا اور اس کے والدین یہ سن کے بہت خوش ہوئے
کے ان کو خواہش پوری ہوگئی

ہرا اور اس کے والدین کو اسٹیج پہ بلایا گیا
پھر ہرا نے اس نے اپنی زندگی کے بارے میں بتاتا
کے ہم بہت غریب تھے
میرے والدین میری خواہش پوری کرنے کے لئیے
دن رات دوسرے گھروں کا کام کر کے پیسے کما کر مجھے یونیورسٹی تک پڑھایا
جب میں اسکول پڑھتی تھی تب کچھ سالوں بعد ہمارے گاؤں والوں نے ہمیں نکال دیا
کیوں کے وہاں کوئی بھی آج تم اسکول نہیں گیا تھا مگر پھر بھی وہ میرا گاؤں ہے جہاں میں پیدا ہوئی اور وہاں سے ہی میں نے اسکول جانا شروع کیا اور گاؤں کو چھوڑنے کے بعد پھر ایک آدمی نے ہمیں تین چار سال اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دی اور جب مجھ پہ الزام لگا تو اس آدمی نے ہمیں گھر سے نکالا مگر میں اس کی بھی شکر گزار ہوں اور اس کے بعد میری دوست نے میرا ساتھ دیا میں اس کی بہت شکر گزار ہوں یہ میری ایک دوست نہیں بلکہ ایک بہن ہے
اگر یہ اس دن ان لڑکوں کے بارے میں نہ بتاتی تو شاید یہ دن کبھی نہ آتا

اور میں نے اپنے والدین سے وعدہ کیا تھا کے میں ایک دن ٹیچر پڑھ لکھ کر بہت اچھی ٹیچر بنوں گی
آج میرے لئیے بہت ہی خوشی کا دن ہے

آج میں جو کچھ بھی ہوں سب میرے ماں بابا کے محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے

اور اس وقت یہ سب گاؤں والے ٹی وی پر دیکھ کر تھے وہ اس وقت یونیورسٹی میں آئے ہرا اور اس کے والدین سے معافی مانگی اور کہا ہم تو سمجھتے تھے کے تعلیم حاصل کرنا کچھ نہیں
بلکہ ہم نے سوچا ہرا اسکول پڑھے گی اگر وہ ایک دن بہت بڑی کامیاب بن گی تو ہمیں تانے دے گی اور ہرا اور اس نے والدین پھر ان کا گاؤں میں نام روشن ہوگا اور جو ہماری عزت ہے وہ کھاک میں مل جائے گی

ہرا اور اس کے والدین کے ساتھ ہم نے کتنا برا کیا مگر ہرا نے ہمارے بارے میں ٹی وی کچھ بھی برا نہیں بولا ہم جو ظلم کرتے تھے وہ بھی کچھ نہیں بتایا اگر بولتی تو ہم لوگوں سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہتے بس یقین ہوگیا ہم ان پڑھ لوگ کتنی گندی سوچ رکھتے ہیں اور پڑھے لکھے لوگ بہت اچھی سوچ رکھتے ہیں وہ کسی کا برا نہیں چاہتے اور ہم نے بہت تکلیف دی ہے آپ سب کو
ہو سکے تو ہمیں معاف کر دے

اور اب ہم بھی اپنی اولاد کو ہرا کی طرح پڑھائے لکھائے گے

اور آج ہم سب کو فخر ہو رہا ہے کے ہمارے گاؤں میں ایک بہت پڑھی لکھی لڑکی ہے اور ٹیچر بھی ہے

 

 

Comments

comments

You may also like...