Siphahi : Urdu Short Fiction by Ayesha Saleem Anjum

Wagah Border India Pakistan

سپاہی – عائشہ سلیم انجم

خدا نے مجھے ایک جنم سے نوازا ہے ، اگر سات جنموں  سے ںوازتا تو بھی میں ہر جنم میں شہادت کی آرزو کرتا  ۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہادت ہے مطلوب مقصود مومن

نا مال غنیمت ، نا کشور کشائی

کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کو موت سے ڈر نہیں لگتا ؟ کیا تم موت کو اپنے سامنے دیکھ کر کانپ نہیں جاتے ؟۔۔۔۔۔کیا تم کو اتنا یقین ہے اپنی صلاحیتوں پر کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے مات دے دو گے  ؟ کیا تمہیں اپنوں سے بچھڑنے کا ڈر نہیں لگتا   ؟ کہیں چھپ کر گھٹ گھٹ کر مرنے کا تصور ڈراتا نہیں کیا تمہیں ؟

میں خاموشی سے مسکرا دیا تھا ۔

“میں سپاہی ہوں اور سپاہی ڈرا نہیں کرتے کیونکہ اگر سپاہی ایک دن بھی ڈر گیا تو  لوگ روز ڈریں گے  ” میرے جواب پر وہ خاموش ہو گیا ۔ اور میں اٹھ کر وہاں سے چلا آیا ۔ اس کے لیے اتنا جواب ہی  کافی تھا۔

———————-%%—————–

“حیدر ۔۔۔۔۔” امی جان کی آواز پہلے سے زیادہ بلند تھی۔ حیدر نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں ۔ لیکن بستر چھوڑنے کا ارادہ کرنے سے قاصر رہا ۔

“حیدر۔۔۔۔۔۔اٹھ جاؤ ورنہ جوتی لے کر آ رہی ہوں میں ” امی جان کی آواز ایک دفعہ پھر سنائی دی اور اس دفعہ وہ کمبل ہٹاتا اٹھ بیٹھا  ۔ کچھ بعید نہیں تھا کہ امی  جان ایسا کر گزرتی ۔  جوان جہان بیٹے پر تشدد کرتے انھیں ذرا بھی رحم نا آتا تھا ۔ حیدر بستر سے نکل آیا اور واشروم میں گھس گیا ۔

باہر نکلا تو بیڈ کی حالت درست کی جا چکی تھی ، کمبل بھی تہہ کیا جا چکا تھا گویا امی آ کر گئی تھیں ۔ اگر انکی جگہ عارفہ آتی تو سب سے پہلے حیدر کو صلواتیں سناتی پھر کمرہ ٹھیک کرتی اور پھر جاتی ۔

وہ باہر نکل آیا۔ “عارفہ چائے لانا ” کیچن کی طرف رخ موڑ کر آواز دی اور پھر لاونج میں آ گیا جہاں امی بیٹھی تسبیح کر رہی تھیں ۔ انھیں منانا بھی تھا ابھی۔

“السلام و علیکم امی ” وہ ان کے پاس بیٹھ گیا ۔

“وعلیکم السلام ” لہجہ سے ناراضگی ظاہر   تھی ۔ وہ اس کے لمبی تان کر سونے پر اکثر خفا رہتی تھیں ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا رات دیر سے سونے کے باوجود وہ صبح وقت پر اٹھ نا پایا ۔ اور ہمیشہ کی طرح امی کا پارہ ساتویں آسمان کو چھو گیا۔

” عارفہ ۔۔۔۔۔۔چائے تو لا دو ۔۔۔” وہ وہیں سے  چلایا۔

“عارفہ کالج گئی ہے ” امی نے جواب دیا ۔ اور پھر سے رخ موڑ گئیں ۔ یہ ناراضگی کا  صاف    اعلان تھا  وہ اسے چائے بھی نہیں دیں گی۔  لہٰذا  ان سے توقع بھی نا کی جائے ۔

“فضل دین۔۔۔۔۔چائے بنا دو ” اس نے ملازم کو آواز دی ۔ لیکن اس بار بھی جواب امی کی طرف سے آیا تھا ” فضلو مارکیٹ گیا ہے “

“امی چائے مل سکتی ہے کیا؟ ” وہ براہ راست امی سے مخاطب ہوا ۔

“بلکل نہیں ۔ اتنی دیر سے اٹھتے ہو نا نماز ادا کرتے ہو نا ہی قرآن کی تلاوت کرتے ہو ، ہزار دفعہ اٹھا کر گئی تھی تمہیں مگر مجال ہے جو اس شیطانی نیند کے آگے ہتھیار  اٹھاؤ ۔۔۔اوراللہ توبہ کرو۔ ” وہ گھوم پھر کر اصل موضوع پر آ ہی گئیں ۔ ” اب اٹھ کر آ رہے ہو کہ چائے پینی ہے ۔۔۔اگراب بھی میں آواز نا لگاتی تو خدا جانےکب تک سوتے رہتے “

“امی میں رات دیر سے سویا تھا ۔۔۔کچھ ضروری کام نبٹا رہا تھا اور رات کو میں کسی جنگ میں شریک نہیں ہوتا جو ہتھیار اٹھاؤں ۔۔۔۔۔اور امی آپ صرف تین دفعہ اٹھانے آئیں تھیں مجھے میں نے گنتی کی تھی ۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ کا حساب بہت کچا ہے ” وہ  معصومیت سے کہتا انھیں مزید تپا گیا

“بہت خوب  مجھے دلیلیں دے رہے ہو یہ نہیں کے شرم سے پانی پانی ہو جاؤ ۔۔۔۔ایک عارفہ ہے نماز روزے کی پابند ۔۔میری سلجھی ہوئی بچی ۔۔۔مرغے کی بانگ پر   اٹھ جاتی ہے اور ایک تو ہے الو کی طرح دن چڑھے سوتا ہے نا نماز کا خیال نا قرآن کا ۔۔۔ ” وہ اپنا غصہ اتار رہی تھیں اور حیدر چپ چاپ سن رہا تھا کیونکہ وہ سہی کہہ رہی تھیں ۔ عارفہ انکی سلجھی ہوئی بچی تھی اور وہ خود انکا بگڑا ہوا الو۔۔۔۔۔

“بیٹا نیند میں کچھ نہیں رکھا ۔ نماز پڑھا کر ۔۔۔۔اللہ کو یاد کیاکر تا کہ اللہ بھی تجھے روز حشر میں یاد رکھے اور تیری بخشش کرے ۔ ” انکا انداز اب سمجھانے والا تھا  ۔

“جی امی میں  سمجھ رہا ہوں ” وہ سر جھکا کر بولآ گویا شرمندہ ہو تبھی امی جان نے بات بدلنا مناسب سمجھا آج کے لیے  اتنا لیکچر کافی تھا  ۔

“میں چائے لاتی ہوں ساتھ نآشتہ بھی لگا رہی ہوں ۔۔۔خالی پیٹ چائے مت پینا ” وہ اس کے سر پر پیار کرتی تسبیح رکھ کر اٹھ گئی۔

اور وہ مسکرا دیا۔ ماں ماں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔پل میں تولا پل میں ماشا  ۔۔۔۔

—————–%%—————

“بات سنو ” وہ کمرے میں آیا تو عارفہ پڑھنے میں مصروف تھی۔

“جی بھائی “

“مجھے اس مرغے کا ایڈریس دو ذرا ” وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ عارفہ حیران ہوئی کیونکہ بات ہی بے تکی تھی۔

“کونسا مرغا ؟ “

“وہی جس کی بانگ پر تم اٹھ جاتی ہو ۔ ” وہ اب بھی سنجیدہ تھا۔ لیکن عارفہ کو وہ اپنے حواسوں میں ںا لگا ۔ “بھائی شاید آپ کو نیند آ رہی ہے “

“ارے امی ںے ہی بتایا ہے کہ تم مرغے کی بانگ پر اٹھتی ہو ، بس پھر میں نے بھی سوچ لیا میں وہ مرغا ہی خرید لوں گا ” اس نے اپنا مقصد بتایا تو  وہ سر پیٹ کر رہ گئی۔  کچھ نہیں ہو سکتا حیدر کا ۔

—————%%————

“بھائی اپںی چیزیں سنبھال کر رکھا کریں ، لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔۔اپنی چیزیں سنبھال نہیں سکتے اور چلیں ہیں فوجی بننے ” وہ حسب معمول اسکا پھیلاوا سمیٹنے میں مصروف تھی۔

“عارفہ سیریسلی وہ میرا سسرال نہیں ہے جہاں مجھے سگھڑ ںا ہونے کے طعنے ملیں گے ۔ ” حیدر گھڑی باںدھتے ہوئے بولا۔ ۔

“آپ کو کسی نے لڑکی ہی نہیں دینی ۔۔۔۔تو سسرال کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔” وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔

“تم ہی جاؤ گی بہنا میرا رشتہ لے کر ” وہ رومال جیب میں ڈالتے ہوئے بولا۔

“ہو ہی نا جائے ایسا ” وہ مزید تپ گئی۔

“اچھا میں جا رہا ہوں امی کو بتا دینا ” وہ شیشے میں ایک نظر خود پر ڈال کر کمرے سے  نکل گیا اور عارفہ سر جھٹکتے  اسکا پھیلاوا سمیٹنے لگی۔

—————–%%—————

وہ آئی ایس ایس بی کلیئر کرنے کے بعد اکیڈمی جوائن کر چکا تھا۔ اس کے گھر سے نکلتے وقت عارفہ آبدیدہ ہو گئی تھی جبکہ امی نے اسے حوصلہ دیا تھا۔ انھوں نے اسے رخصت کرتے وقت کہا تھا ” جس کام کے لیے جا  رہے ہو اس کا حق ادا کرنا ، اس میں خیانت نا کرنا  ” وہ ان کی بات سمجھ گیا تھا۔  پھر ان سے الوداع لے کر وہ چلا گیا ۔ اپنی منزل کی طرف اپنے مقصد کو پانے کے لیے۔

سنو اے زرد پتوں کے موسم

میرے چمن کا رخ نا کرنا  تم

تیرا ایک بھی سنگدل جھونکا

وہاں تک پہنچ ںا پائے گا

کہ رستے میں حائل  سپاہی جان دے دے گا

کہ جب وہ تجھ سے ٹکڑائے گا

تو  تیرا حشر کر دے گا

سنو ذرا سی عقل رکھو تو

یہی سے  لوٹ جانا تم

کہ سپاہی مار ڈالے گا ، سپاہی مار ڈالے گا

اسکے پہلے بھی دشمن ہیں ۔۔۔۔وہ دشمن اور بنائے گا

چمن کی بقا کی خاطر وہ تجھ کو مار ڈالے گا

سپاہی مار ڈالے گا  ۔

———————&&—————

اسکے اکیڈمی جانے کے بعد گھر یک دم سنسان سا لگنے لگا تھا۔ امی جان اپنی عبادت میں مشغول رہتی تھیں اور عارفہ پورے گھر میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ اس گھر کے درودیوار اب حیدر اور عارفہ کی نوک جھوک سننے کو ترس گئے تھے  ۔

وحید صاحب کا زیادہ وقت فیکٹری میں گزرتا تھا۔ عارفہ جب بور ہو جاتی تو حیدر کے  کمرے پر دھاوا بول دیتی ۔ اسکے پسندیدہ نغمے سنتی ۔۔۔۔کچھ وقت وہیں گزارتی اور پھر باہر آ جاتی۔ وقت یؤنہی گزر رہا تھا۔ اور پھر ایک دن حیدر کی واپسی ہوئی۔ اس کے جاندار قہقہوں سے اس گھر کے درودیوار پھر سے سیراب ہو گئے۔

پورے گھر میں آتما بن کر پھرنے والی عارفہ اب بھائی کے آس پاس منڈلاتی رہتی ۔ وحید صاحب اسے پکڑ کر فیکٹری لے جاتے ، کافی دیر وہاں بیٹھ کر گپیں لگانے کے بعد وہ گھر آ جاتا تو امی جان پکڑ لیتی۔ اس سے نمازوں کے بارے میں یوچھتی اور اپنا فرض ایمانداری  سے ادا کرنے کا سبق دیتیں ۔

وہ خاموشی سے انھیں سنتا رہتا ۔

“بیٹا کبھی کسی محاذ پر جاؤ اور دشمنوں سے سامنا ہو تو انھیں بتا کر آنا کہ تم” میرے” بیٹے ہو ، اپنی پیٹھ پر وار مت سہنا ۔۔۔۔۔اپنے سینے پر وار سہنا  ۔۔۔بتا کر آنا انھیں کے مومن جب میدان میں آتا ہے تو دشمن کو زیر کر کے ہی دم لیتا ہے ۔ شہادت سے گھبرانا مت میرے بچے ۔ رب نے اسکا بڑا اجر رکھا ہے ” وہ اس سے کہتی اور وہ انھیں  دیکھ کر رہ جاتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس کی ماں بلند حوصلے والی ہے ۔ لیکن یہ وحید صاحب ہی جانتے تھے کہ حیدر کے جانے کے بعد انھیں سنبھالنا کتنا مشکل کام ہوتا تھا۔ وہ بیٹے کا حوصلہ پست نہیں کرنا چاہتیں تھیں ۔ جب اس مںزل پر قدم  رکھا تھا تو سینہ تان کر چلنا تھا  ۔

———————-%%———–

“عارفہ یار

 بس کرو۔۔اتنا کھلاؤ گی تو گول گپہ بن جاؤں گا ” وہ اسکا ہاتھ روکتے ھوئے بولا ۔ عارفہ جو اسے مسلسل کھلائے جا رہی تھی رک گئی۔ “اچھا لیکن دوپہر تک اسے ختم کر دینا میں کیچن میں رکھ دیتی ہوں “

“اوکے اوکے ” وہ فورا بولا ۔

“بھائی کبھی تو لمبی چھٹی لے کر آیا کریں ” وہ اسکے کل  چلے جانے پر خفا تھی۔

“لڑکی خدا کا شکر کرو کہ اتنی چھٹی بھی مل گئی۔ “

“لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ کچھ کہنے لگی تھی لیکن چپ ہو گئی۔ کہنے کا فائدہ نا تھا۔ اس کے کہنے سے ںا ہی حیدر رک سکتا تھا اورنا ہی اس نےرکنا تھا۔

“اگلی دفعہ جب آؤں گا تو ازالہ کر دوں گا ۔۔۔تمہیں ڈھیر ساری شاپنگ کرواؤں گا ” اس نے شفقت  سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ تو وہ رو دی ۔ بھائی سے اتنے دن کی دوری رلانے کے لیے کافی تھی۔

“ارہے پگلی اگر اس طرح رو کے رخصت کرو گی مجھے تا کہ پریشان رہوں ؟ ” حیدرکی بات پر اس نے فورا نفی میں سر ہلایا۔ وہ اسے پریشان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔

“پھر چپ ہو جاؤ خوشی خوشی مجھے الوداع کہو اور میرے لیے دعا کرو” وہ پچکارتے ہوئے بولا ۔ عارفہ نے فورا آنکھیں رگڑیں گویا اب نہیں روئے گی ۔

“یہ ہوئی نا بات ” حیدر مسکرایا تھا  ۔۔۔۔۔۔

“کیا تم امی کا خیال رکھتی ہو ؟ یاں انھیں بھی پریشان رکھتی ہو ” وہ اسے بہلانے لگا۔ لاڈلی بہن کے آنسو اسے تکلیف پہنچا رہے تھے۔

“جی نہیں بھائی۔۔۔میں امی ابو کا بہت سا خیال رکھتی ہوں  ” اس ںے فورا اس کی اصلاح کی تو حیدر کی مسکراہٹ گہری ہوئی  ۔

——————–%%—————-

ایک دن کیسے بیت گیا اندازہ ہی نا  ہوا۔ حیدر چلا گیا تھا۔ لیکن اب کی بار سب نے اسے خوشی خوشی الوداع کہا تھا۔ عارفہ نے اب کی بار آنسوؤں پر قابو پا لیا تھا۔ وہ بھائی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی  ۔

اس کے جانے کے بعد سب پھر سے معمول پر آگیا جیسا اس کی غیر موجودگی میں ہوا کرتا تھا  ۔

  ——————–%%————–

رات کی تاریکی میں وہ اپنے پراؤ سے ذرا دور کھڑا تھا ۔ اس کے ساتھ اسکا ساتھی بھی تھا۔ کسی کام کے سلسلے میں انھیں اپنے پراؤ سے دور جانا پڑا تھا   ۔

“احسن ؟؟” حیدر نے اچانک اسے پکارا تو وہ چونک گیا۔

“کیا ہوا ؟ ” اس نے وجہ جاننی چاہی۔

“مجھے وہاں روشنی کی جھلک نظر آئی ہے شاید ہمارے علاوہ کوئی اور بھی وہاں موجود ہے ” حیدر ایک سمت میں دیکھتا ہوا بولاتو احسن نے بھی ادھر دیکھا  ۔ وہاں اب اندھیرا تھا   ۔

“حیدر تمہاری آنکھوں کا دھوکہ ہو گا ، وہاں کوئی روشنی نہیں ہے یہ آرمی ایریا ہے یہاں بھلا کون   آئے گا ؟ ” احسن نے اس کے خیال کی نفی کی ۔

” نہیں ۔۔میری آنکھوں کا دھوکہ نہیں ہے  ، آرمی ایریا میں اس وقت کوئی ہو سکتا  ہے تو وہ ۔۔۔ہمارا دشمن ہی ہو گا ۔۔ہمیں وہاں  چلنا چاہیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے” حیدر پیچھے ہٹنےوالا نہیں تھا۔

“ٹھیک ہے چلو “

وہ آگے بڑھنے لگے   ۔ وہ دبے پاؤں چل  رہے  تھے شاید زمین بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتی تھی کہ کوئی اس کے سینے پر قدم رکھ رہا ہے ۔ لیکن وہ   چل  رہے تھے۔

“حیدر وہ دیکھو ۔۔۔” احسن نے اسے سامنے دیکھنے کا کہا ۔ درختوں کے بیچ و بیچ وہ لوگ موجود تھے ۔ وہ کچھ بول رہے تھے ۔ ان کی آواز حیدر اور احسن کے کانوں تک بخوبی پہنچ رہی تھی ۔

“تم لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے ، جانتے ہو وہ مسلمان ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔حج کرتے ہیں ۔۔۔ان کی یاترا ہماری یاترا کی طرح نہیں ہوتی انکی عبادت اور ہے ۔۔۔۔وہ ہمارے خلاف جنگ کی تیاری کرتے ہیں کبھی تم ان کے پاک کلام کو پڑھو تو پتہ لگے کہ وہ تب تک لڑیں گے جب تک ہر کافر کا  خاتمہ نہیں کر دیتے ۔  وہ دن میں پانچ بار نماز پڑھ کر  خود کو مضبوط بناتے ہیں ، وہ اپنے نبی کے نام کو کبھی مٹنے نہیں دیں گے اس واسطے ہمیں بھی نیند سے بیدار ہونا ہو گا تا کہ اپنا دفاع کر سکیں  ۔ آج ہم انکا خاتمہ کر دیں بس کچھ دیر اور۔۔۔۔ہمارا سگنل ملتے ہی ہمارے ساتھی حملہ کر دیں گے ۔۔۔؟ کیا تم سب تیار ہو ؟” انکے لیڈر کی آواز وہ سن رہے تھے ۔

“جانتے ہو میری ماں کی خواہش کیا ہے ؟ ” حیدر کی روشن آنکھوں  نے احسن کو دیکھا  ۔ ” کہ اپنے وطن کے لیے شہید ہو جاؤں ، اور اپنے سینے پر وار سہوں ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے آج وہ دن آ گیا ہے ۔۔۔۔ہمیں انھیں سگنل دینے سے پہلے زیر کرنا ہے تم چوکی پر اطلاع دو تا کہ وہاں کا معاملہ وہ لوگ سنبھال لیں ” حیدر کے کہنے پر اس نے فورا عمل کیا۔ انھیں وقت ضائع نہیں کرنا تھا ۔ ہر قدم احتیاط سے اٹھانا تھا۔

وطن کی دھرتی ، میں آگیا ہوں

تیرا سر پھرا سپاہی ، تیری آغوش میں سونے

لڑائی لڑ کر آیا ہوں

فاتح بن کے آیا ہوں

بتایا آیا ہوں دشمن کو

جان سے گزر تو جاؤں گا

مگر تیرا سایہ مٹاؤں گا

مٹا دیا اسے میں نے

اسے میں نے ختم کر ڈالا

میری دھرتی ۔۔۔۔۔تیرے سینے سے اسکی جڑ اکھاڑ آیا ہوں

میں بہت تھک کر آیا ہوں

سپاہی تھک گیا ہے اب

اسے اپنی آغوش میں لے لے

کہ اب یہ اٹھ نا  پائے گا

کہ اب یہ لڑ نا پائے گا

کبھی پھر جی نا پائے گا

میری سوہنی دھرتی اب۔۔۔۔اپنی آغوش میں لے لے

تیرا سپاہی آیا ہے ، بڑا ہی تھک کر آیا ہے

فاتح بن کے آیا ہے

—————–%%—————-

وہ آرام سے چلتے ہوئے انکے ٹھکآنے کے پاس پہنچ گئے تھے ۔ اگلا کام حملہ کرنا تھا۔ ان کو زیر کرنا تھا۔ یک دم انھیں دھماکے کی آواز آئی یقینا انکی چوکی سے ہی آئی تھی ۔ وہ سب الرٹ ہو گئے ۔ حیدر نے بھی ان پر حملہ کرنے کی ٹھانی ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھیوں کو شکست ہوئی ہے یاں وہ دشمن کے دانت کھٹے کر چکے ہیں۔ لہذا وہ انکا کام یہیں تمام کرنا چاہتے تھے۔

“احسن چلو” اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا  ۔ وہ درختوں کی لکڑی کے پیچھے چھپے فائرنگ کر رہے تھے ۔ رات کے سناٹے کو گولیوں کی گھن گرج نے  چیڑ کر رکھ دیا تھا ۔ وہ مسلسل ان  پر گولیاں برسا رہے تھے۔ کچھ وقت بعد خاموشی چھا گئی۔ شاید سب مارے گئے تھے۔ حیدر نے آگے ہو دیکھا ۔ لاشیں جگہ جگہ گری پڑی تھیں۔

لیکن عین اسی  وقت ایک وجود میں حرکت ہوئی ، چند گولیوں نے انکی طرف کا سفر کیا۔ دونوں گؤلیاں احسن کے کندھے میں جا گھسیں ۔ حیدر نے اسے دوسرا موقع ہی نہیں دیا اور اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

“تم  ٹھیک ہو ۔۔۔احسن ” وہ تسلی کر لینے کے بعد اسکی جانب آیا۔

 ”  تم ۔۔تم۔۔۔۔جاؤ وہاں جا کر دیکھو میں ٹھیک ہوں ” وہ بمشکل بولا۔ دو  گولیاں ایک ہی کندھے پر وہ بمشکل  برداشت کر پا رہا تھا۔

“سب مارے گئے ہیں یہاں ، تم ۔۔اٹھو ہمیں چوکی تک جانا ہے ۔۔۔۔۔۔ ” حیدر نے اسے سہارا دے  کر اٹھایا تھا۔

——————–%%————

میں چوکی کے قریب پہنچا تو گولیوں کی آواز سنی ۔ ابھی میں   ٹھیک سے حالات کا جائزہ نہیں لے پایا تھا ۔میں نہیں جانتا تھا کہ کس کا پلرا بھاری ہے ۔ میری نظر درخت کی۔اوٹ میں چھپے بندے پر ٹھہر گئی۔ احسن کو میں پیچھے بٹھا کر آگے جائزہ لینے آیا تھا۔  وہ بندہ خود کش جیکٹ پہنے ہوئے تھا ۔ اسے اسکا ارادہ بھانپنے میں ایک سیکنڈ لگا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا میں آگے بڑھ گیا آج اپنا فرض ادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ وہ نجانے کیا دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا اسے احساس ہی ںا ہو اور میں اس کے پاس پہنچ گیا۔

میرے وطن کی دھرتی میں آ گیا ہوں

تیری آغوش میں سونے کو

میں برق رفتاری آگے بڑھا اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔۔۔۔پھر ایک آواز ابھری تھی شاید ۔۔۔۔۔کچھ پل  کے لیے سب دھندلا گیا ۔۔۔لیکن پھر میں نے دیکھا کہ وہاں آگ کے شعلے تھے ۔۔۔۔میرا دشمن مارا جا چکا تھا۔ مجھے فتح نصیب ہوئی تھی ۔

میں کچھ دیر کھڑا اس آگ کو  دیکھتا رہا پھر مجھے وہاں آہٹ محسوس ہوئی میرے ساتھی وہاں آئے تھے مگر کوئی مجھے دیکھ نا پایا ۔ ان کے ساتھ احسن بھی تھا ۔ وہی یقیننا انھیں یہاں لایا تھا۔ پھر میں نے انھیں کہتے سنا تھا ۔ حیدر شہید ہو گیا۔

کیا واقعی میں شہید ہو گیا تھا؟ میں نے سوچا ۔۔۔شاید وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ میرا جلا ہوا وجود ان کے سامنے تھا ۔۔۔۔۔وہ مجھے وہاں سے لے گئے تھے  ۔

میں بہت تھک کر آیا ہوں

سپاہی تھک گیا ہے اب

اسے اپنی آغوش میں لے لے

کہ اب یہ اٹھ نا  پائے گا

کہ اب یہ لڑ نا پائے گا

کبھی پھر جی نا پائے گا

میری سوہنی دھرتی اب۔۔۔۔اپنی آغوش میں لے لے

تیرا سپاہی آیا ہے ، بڑا ہی تھک کر آیا ہے

فاتح بن کے آیا ہے

——————–%%————-

میرے تابوت کو

 میری ماں کے سامںے رکھا گیا ۔۔۔عارفہ ۔۔۔وہ رو رہی تھی ۔۔میرے ابو کی آنکھ پر بھی نمی تھی مگر میری ماں کا حوصلہ قابل دید تھا  ۔ مجھے لگا وہ خوش ہیں ، شاید مسکرا رہیں ہیں۔ آج انکا حیدر شہید ہوا تھا آج انکا چہرہ پرنور ہوا تھا۔

ابو عارفہ کو تسلی دے رہے تھے ۔۔میں جانتا تھا وہ چپ ہو جائے گی ۔۔۔اسے بھی صبر آ جائے گا لیکن مجھے اب  جانا تھا۔ جہاں سب شہداء  ملتے ہیں۔ مجھے بھی وہیں جانا تھا۔

اور پھر میں چلا گیا ، اپنا  فرض ادا کر کے میں چلا گیا۔ اپنے وطن کی حفاظت مرتے دم تک کر کے یہ سپاہی چلا گیا۔

———————-%%———

“اگر آج ہم ان اوراق کو الٹ کر دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ کوئی راہ چلے مارا گیا ، کسی کو گھر میں گھس کر مار دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔کوئی دوران سفر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو کوئی سسک سسک کر مرا ” وہ سٹیج پر کھڑی بول رہی تھی اور سب اسے خاموشی سے  سن رہے تھے۔

” آجکا پاکستان وہ پاکستآن نہیں ہے جسکا خواب ہمارے بانی نے دیکھا تھا۔ آج ہر کوئی مفکر بنا بیٹھا ہے آج ہر کوئی اسے سنورانے کے نام پر برباد کرنے بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔آج ہر کوئی ٹھیکہ دار بنا بیٹھا ہے ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں پاکستان کے ان نام نہاد ٹھیکہ داروں سے  کہ کیا ایسے پاکستان کے لیے ہمارے قائد نے اپنے شب  و روز کا  چین برباد کیا تھا؟ ، کیا ایسے پاکستان کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا ؟، کیا ایسے پاکستان کے لیے ماوؤں نے اپنے بیٹے اور بہنوں نے اپنے بھائی قربان کیے تھے ؟۔۔۔۔۔اگر یہ۔۔۔۔پاکستان کے نام نہاد ٹھیکہ دار مجھے ان سوالوں کے جواب ںا دے پائیں تو سن لیں۔۔۔قائد اعظم جیسے لیڈر روز روز نہیں آیا کرتے ، اقبال جیسے مفکر مائیں روز روز پیدا نہیں کرتیں ، روز روز بہںیں اپنے بھائیوں کو شہادت کے لیے تیار نہیں کرتیں۔۔۔اسی لیے اس ملک کی حفاظت کرو ” اج اسکا چہرہ مطمئن تھا ، آج وہ حیدر کی بہن لگ  رہی تھی اپںی ماں کا عکس لگ رہی تھی ۔۔آج وہ عارفہ لگ  رہی تھی۔

“جو ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے  وہ سن لے  کہ ہماری سرحدیں غیر محفوظ نہیں ہیں ۔۔۔ہمارے جوان وہاں ہمہ وقت موجود ہیں تمہاری اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے  لیے ۔ سن رکھو اگر ان کے بس  میں ہوتا تو شہادت کے بعد ان کی روحیں بھی سرحد پر ڈیڑہ ڈالے بیٹھی رہتیں۔۔۔” اس کی آواز اس کے حوصلے کی طرح بلند تھی۔

“ہم عاشق ہیں ۔۔۔ہمیں عشق ہے اپنے وطن سے   ۔۔۔۔۔۔اور جانتے ہو عشق کی کوئی حد  ںہیں ، اگر جاننا چاھو کہ عشق کیا ہے تو میرے وطن کے سپاہیوں سے پوچھو ۔۔۔

جو پوچھو گے تم کہ عشق کسے کہتے ہیں

سر کاٹ کر اپنا رکھ دیں گے تیری آغوش میں

اسی لیے ہم سے بچ  کر رہنا نہیں تو ہم تمہارآ وہ حال کریں گے کہ تمہاری داستان تک  ںا ہو گی  دنیا کی داستانوں میں ” ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔

“پاکستان زندہ باد ”  وہ اسپیچ ختم کرتی اسٹیج سے نیچے اتر آئی جہاں امی جان بیٹھیں تھی۔ انکا چہرہ آج  بھی مطمئن تھا۔ –

—————–%%—————-

اگر ہوتے میری قسمت میں ساتوں جنم

میں ایک ایک کر کے سبھی تجھ پر نثار کرتا

“شہادت کی آرزو ہر دل میں ہوتی ہے ۔ ہر مومن اسے اپنا مقصد سمجھتا ہے ۔ اگر ہم انہی وطن کے سپاہیوں کو کہیں گے کہ یہ ہم پر احسان نہیں کرتے ، ہمارے ٹیکس کھآتے ہیں تو لعنت ہے ہم پر ” وہ اپںے سامنے بیٹھی لڑکی کو سمجھا رہی تھی۔

” جانتی ہو وہ  ںا ہی تمہاری تنقید کو  خود پراثراندز ہونے دیتے ہیں اور نا ہی تمہاری تعریف کو ” سامنے بیٹھی لڑکی نے بیزاریت سے آسے دیکھا۔

” وہ تو سر پھرے عاشق ہیں جنہیں وطن عزیز سے سروکار ہے ، تم جیسے لوگوں سے نہیں ، اور سہی کہا تم  نے وہ ہم پر احسان نہیں  کرتے ۔۔۔۔۔۔۔ہاں وہ ہم پر احسان نہیں کرتے وہ خود پر احسان کرتے ہیں کیونکہ شہادت کا اجر رب انھیں دے گا ہمیں نہیں مگرمیرے جیسے لوگوں میں اتنی انسانیت باقی ہے کہ اپںے محافظوں پر طعنے کسنے کی بجائے انکے لیے دعا کریں ” وہ بول رہی تھی لیکن سامںے بیٹھی لڑکی نے  رخ موڑ لیا  ۔

“اورجانتی ہو تم جیسے لوگوں کو ایک دن کے لیے واہگہ بارڈر کے پار  پھینک دینا چاہیے تا کہ اپنے ٹیکس سے اپنی حفاظت کرو ،  اس  سے یقیننا تمہاری عقل بھی ٹھکانے آ جائے گی ” اسے نظرانداز کیے جانے پر غصہ آیا تو وہ بھڑک اٹھی ۔ سامںے بیٹھی لڑکی حیرت سے اسے دیکھنے لگی  ۔ اس نے اپںی بات مکمل کی اور وہاں سے چلی گئی  ۔ ان کی باتیں سنتی عارفہ مسکرا دی ۔

“حیدرمیرے بھائی۔۔۔۔۔۔کسی سپاہی کے جذبوں کو زبان دینا ناممکن ہے شاید ۔۔۔۔۔۔” وہ اپنے تصور میں اس سے مخاطب تھی۔ اور جوابا حیدر مسکرا دیا۔

سایۂ  خدائے ذوالجلال

پاکستان زندہ باد

———————-%%————-

You may also like...