Baitiyon Ka Aalmi Din: Urdu article by Neelam Ali

Baitiyon Ka Aalmi Din: Urdu article by Neelam Ali

 

بیٹیوں کا عالمی دن   – تحریر: نیلم علی راجہ

26 ستمبر بیٹیوں کے عالمی دن کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ عام طور پر میں ایک دن کو مختص کرنے کے خلاف ہوں۔ رشتوں کو روز منایا جانا چاہیے انھیں اپنی زندگیوں میں اہمیت دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔

لفظ عورت کا مطلب ہے چھپی ہوئی قیمتی چیز۔۔۔۔۔ اور بیٹی تو جیسے سیپ میں چھپا ہوا “نایاب موتی”۔

میں چوں کہ خود بھی ایک بیٹی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں۔ اس لیے بحیثیت ماں یہ سمجھتی ہوں کہ اپنی بچیوں کو پیار دیں، لاڈ اٹھائیں، ان کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں۔ اتنا اعتماد دیں کہ وہ اپنی ہر چھوٹی، بڑی بات، ہر خوشی، ہر غم آپ سے ہی شیئر کریں۔ چاہے وہ بات کیسی ہی کیوں نہ ہو۔

بچپن سے ہی بچوں کی بات کو توجہ سے سنیں اور اہمیت دیں۔ اور بڑے ہو کر بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں۔

بیٹیوں کو بھی بیٹوں کے مساوی محبت، غذا، تعلیم، اور سہولیات مہیا کریں۔

ان کے لیے لباس کو منتخب کرتے وقت اپنی اقدار اور دینی حدود کو ضرور مدنظر رکھیں۔ کیوں کہ بچپن کی عادات پختہ ہو جاتی ہیں۔

جیسا کہ آج کل لباس میں دوپٹے کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ فکر انگیز بات ہے۔ اپنی بچیوں کو سر ڈھانپنے کی اور مکمل لباس کی فضیلت بھی اسی طرح بیان کریں جیسے فیشن ٹرینڈز بتائے جاتے ییں۔

بچیوں کواچھے اور برے کی تمیز سکھائیں اور پراعتماد بنائیں۔ انھیں اپنی حفاظت خود کرنا سکھائیں۔ کیوں کہ آپ 24 گھنٹے ان کے ساتھ موجود نہیں رہ سکتے۔

بچیوں کو یہ باور کروائیں کہ ماں باپ سے زیادہ خیر خواہ کوئی نہیں ہے۔ کچھ غلط بھی ہو جائے تو بھی سب سے پہلے والدین کواعتماد میں لیں وہ خفا ہوں گے، مگر۔۔۔۔۔ والدین اولاد کا بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کر دیتے ہیں۔

Women

 

اس کے ساتھ ساتھ جیسے ہی بچیاں بڑی ہوتی جائیں انھیں تعلیم کے ساتھ گھرداری بھی سکھائیں۔ تا کہ شادی کے بعد ان کو مشکلات کا سامنا کم سے کم ہو۔ جاب کرنے والی لڑکیاں بھی اپنا گھر عمدہ طریقے سے چلاتی ہیں۔

بچوں کی تعلیم کے دوران ہی بہتر شریک حیات کی تلاش جاری رکھیں۔

اپنی بچیوں کو اتنی تعلیم ضرور دلائیں کہ نامناسب حالات میں وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ آپ کا دیا ہوا اعتماد، تعلیم اور وقار ان کی مشعل راہ بنے گا۔

بہو گھر آ جائے تو اسے بیٹی کی طرح محبت دینے کی کوشش ضرور کریں۔ اگر یہ نا ہو پائے تب بھی عزت ضرور دیں کیوں کہ وہ آپ ہی کے “اپنے بیٹے” کے ساتھ منسلک ہے اور اس نے”آپ ہی” کی نسل کو پروان چڑھانا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی بیٹیوں کو بھی بھابھی سے حسن سلوک کی تاکید کریں اور اس معاملے میں لچک نہ دکھائیں۔ کسی کی لگائی بجھائی میں مت آئیں۔

ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ بات کر کون رہا ہے۔۔۔۔۔

جن کی بیٹیوں کے رشتے ہو چکے ہیں یا شادیاں ہو چکی ہیں۔ان کی ماؤں کو چاہیئے کہ انھیں وقار کے ساتھ سسرال میں رہنے کی ترغیب دیں۔

شوہر کی عزت و تکریم کو قرآن سے حوالہ دے کر سمجھائیں اور کھلے دل سے سسرال والوں کو اپنانے کا درس دیں نا کہ اسے سسرال کے خلاف کیا جائے۔

بیٹی کی رخصتی سے پہلے اسے گھر بنانے، رشتوں کی اہمیت اور نزاکت بھی بتائیں۔ اس سلسلے میں سورہ نساء بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا مطالعہ خود بھی کریں اور بیٹیوں کو بھی تلقین کریں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی سے پہلے ہی لڑکی کو الگ گھر اور شوہر کو والدین سے الگ کر دینے کا درس شروع ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے بہو کی ذمہ داری نہیں ہے مگر۔۔۔ بیٹے کی ذمہ داری تو ہے ناں۔۔۔

مشاہدہ ہے کہ اکثر لڑکیاں ساس اور نندوں کو ناپسند کرتی ہیں۔ مگر اس نہج سے بھی تو سوچا جا سکتا ہے کہ یہ رشتے اس کے شوہر کے حوالے سے احترام اور درجہ رکھتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ گنجائش تو نکل سکتی ہے ناں۔۔۔۔۔

لڑکی اگر ہر وقت سسرال کی برائیاں کرتی رہے گی تو وہ اپنی اور اپنے خاوند کی اہمیت اپنے میکے اور سسرال دونوں جگہ کم کرتی ہے۔ اس کے بجائے یہ کوشش کی جائے کہ دلوں میں جگہ بنائی جائے۔

بیٹی کو اپنے گھر کے مسائل خود حل کرنے دیں۔ وہ شکایت کرے تو احسن طریقے سے مثبت پہلو دکھائیں اور کوشش کریں کہ اس کے دل میں سسرال کے لیے جگہ بنے۔

اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ لڑکی ظلم و زیادتی کا شکار ہوتی رہے۔ اور اسے صبر برداشت کا درس دیتے رہیں۔

حالات کا مکمل جائزہ اور ادراک لازمی ہے۔ اپنی بیٹی کی خبرگیری کرتے رہیں۔ اور مشکل میں اس کا ساتھ بھی دیں۔ کیوں کہ یا تو مسئلہ بہتر ہوتا ہے یا بگڑتا ہے۔

مسائل کو بہتر کرنے کی طرف پیش قدمی کریں۔ اور اگر بہتری کی کوئی صورت نہیں نکلتی تو اللہ نے طلاق کا حق دیا ہے۔ خلع لے کر اپنی بیٹی کو زندہ درگور ہونے سے خود بچالیں۔

مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے۔

عورت کا وقار اسلام کی قائم کردہ حدود کے اندر ہے۔ اس لیے خواتین و حضرات کو سورہ نساء، سورہ مریم اور سورہ نور ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ ضرور پڑھنی چاہیے تا کہ حقوق و فرائض کا پتہ چل سکے۔

 

 

Facebook Comments

You may also like...