Zindagi aur Safar: Urdu Article by Sumra Akhlaq

زندگی اور سفر

زندگی کا سفر جو گزر رہا ہے اور جو گزر گیا۔۔ کیا شرط ہے کہ اچھا ہی گزرتا؟ اچھا ہی گزرے گا؟ کیا ہے یہ اچھا ہونا اچھا گزرنا اور اچھا رہنا؟ خوشگوار وقت؟ سب کو حاجت اسی کی ہی ہے۔۔ جبکہ دوسری جانب برا وقت جیسے پردے کے پیچھے سے یہ سب دیکھ کر اپنے رد ہونے پر افسردہ ہے یا تو دھدکارے جانے پر غصیلا۔۔ وہ تو انسان کی کم عقلی پر رنجیدہ ہے کہ یہ تو جانتا ہی نہیں کہ میں ہی تو زندگی کو زندگی بناتا ہوں۔۔ میں ہی تو اسکی اصل حقیقت کو عیاں کرتا ہوں۔۔ صحیح اور غلط کی جھٹ پٹ پہچان کروتا اور لمحوں میں صورتِ حال پلٹ دیتا ہوں اور انسان مجھی سے بھاگتا پھرتا ہے۔۔ یہ کابلِ غور بات تو ٹھری کہ غم و مصیبت میں ہی انسان کو نہ صرف اسکی حقیقت سے آشنائی ہوتی ہے بلکہ ان جھوٹے لوگوں کی پہچان بھی ہوتی ہے جو صرف اپنے مفاد کے لیے آپکے ہمراہ ہوتے ہیں۔۔۔ پر نہیں، یہ بھی منظور نہیں۔۔ جیسے زندگی میں بس ایک شے درکار ہے تو وہ ہے خوشگواری، موسمِ بہار کی جھلملاتی ہوائیں اور بہترین ساتھی۔۔ جو کہ سراسر حماقت و بے وقوفی ہے۔۔ارے یہ زندگی تو ہماری کبھی تھی ہی نہیں۔۔ تو جو ہمارا ہے ہی نہیں تو اسمیں من مرضیاں کیسی؟

 

من کی چاہت کب نفس کی بھوک بن جاتی ہے اور اس بھوک کو مٹانے کی تگ و دو میں ہم کب حیوان سے بھی بتر ہو جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا۔۔ اپنی زندگی میں مسرت اگر اپنے جیسی تخلیق کردہ مخلوق کی زندگی عذاب بنانے کی بنا پر

ملے تو وہ کیسی مسرت ہوئی؟

کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی سکون پذیری کے لئے ازل سے دوسروں کی بے سکونی کا باعث بنتے آ رہے ہیں اور اس عملِ تکسیر پر کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے۔ جبکہ اس صورتِ حال کے برعکس ہم جیسے ہی کچھ نیک سیرت

ازل سے ٹوٹے دلوں کو جوڑتے آ رہے ہیں اور اپنے عملِ صالح پر بلکل تکبر نہیں کرتے۔۔

زندگی کے سفر میں۔۔ ہمیشہ سے دو ہی راستے رہے، خیر و شر۔۔ مرحلات بھی انہیں کے مطابق پیش آتے ہم رہے، اور ان سب میں سے ہمارے نصیب کا فیصلہ ہمارے انتخابات نے کیا۔۔۔ جس نے انسان کو یا تو زندگی کی حقیقت عیاں کی یا تو اسکی گمراہی اور شرمندگی کا باعث بنا۔

کیا ایسا نہیں کہ ہمیشہ ہمارے کانوں نے یہی بات ہمیشہ سنی کہ زندگی فانی ہے، کبھی کسی بزرگ نے یہ کہا، کبھی کسی معتبر شخص نے تو کبھی کسی شاعر نے یا ادیب نے۔۔ تو اگر یہ سچ ہم سب کی عقل قبول کرتی ہے تو ہم کیوں زندگی

کو مستقل رہائش گاہ سمجھتے ہیں؟ سن کر بھی ان سنا کر دینا اور سمجھ کر بھی نا سمجھی کا ناٹک۔۔ اور نا پائیدار رستوں کی نا حق خواہشمندی آخر کیوں؟

بات سے بات یہ کہ زندگی میں مگن رہنے کی یہ دل پسندی اور چاہت ہی ہر فرد کی اولین شرط ہے ۔۔ جبکہ مجھے لگتا ہے کہ ناخوشگواری بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے، ایسا تحفہ جسکو قبول کرنا دشوار اور ایسا بن بلایا مہمان کہ جس کی خاطر مدارت کرنا مشکل۔۔ لیکن اصل میں یہی مہمان تو نعمت ہے جو سفر کی اندونی گہرائیاوں کو آشنا کر دے۔۔ یہ بتلائے کہ تم میں ہم سب کوئی حق و حیثیت نہیں رکھتے زندگی پر سوائے اسکے جو اسکا واحد مالک ہے۔۔ غم و رنج کا یہ مہمان ہی تو کہتا ہے کہ میری نجات اور دوری کا واحد راستہ اسکی پناہ مانگنا ہے، پر اسکو مکمل سمجھنا بھی آسان نہیں پر سمجھ آجانے پر سوچ و زاویہ تک آسمان کا تبدیل کر دیتا ہے، یہ عطاِ ربِ کائنات ہے، نہ جانے کِسے م ہو جائے اور کون اسکو کھو بیٹھے۔۔

 

بے شک زماوٓ مصیبت ہماری ترجیحات میں شامل کبھی نہیں رہتا نہ ہی کوئی م چاہتا ہے کہ اسے مصائب کا سامنا ہو، پر جو غم کو سمجھنے میں اور غم عطا کرنے والے کی حکمت عملی کو جان جائیں تو انکو یہ زندگی کا سفر کٹھن نہیں

لگتا۔۔ مصلحت کو پرکھنا ہی شرط ہونی چاہیے نہ کہ بہارِ آگین ، یہی سوچ ہمارے حال و مستقبل کی خوشحالی کا سبب بنتی ہے اور ہمارے منفی خیالات کو مات دیتی ہے اور ہمیں مکمل انسان بناتی ہے۔۔۔

 

asma tariq 3

 

Facebook Comments

You may also like...