Chalo Baith Ke Kissi Chorahe: Urdu Ghazal by Numan Ijaz

Chalo Baith Ke Kissi Chorahe: Urdu Ghazal by Numan Ijaz

ghazal

 

چلو بیٹھ کر کسی چوراہے پر اپنی داستان لکھیں
جو گزری وہ کیسے گزری اُسکا بیان لکھیں

برسرِ اقتدار تھا کس تحت پر، گِرا کس تحتِ شاہی سے
میری دسترس میں تھے کیسے کیسے جہان لکھیں

کس طرح ذخمی ہوا، کسی اپنے کے ہاتھوں سے
وہ کس طرح کا تھا تیر، کس طرح کی تھی کمان لکھیں

بعد لوٹنے کے اسکے شہر سے، تھک گیا تھا جینے سے
پھر کھایا تھا جو زہر لکھوں، یا جو دیے امتحان لکھیں

نہیں صرف درد کہانی میں، پہلے پہل بہت سکون تھا
میرے لفظوں سے لوگ ہنستے تھے، اُن لفظوں کی مُسکان لکھیں

میرے ساتھ جب تک وہ رہی، مجھے ہر رنگ و خشبو میسر تھی
آئے تو اب ہیں دشت میں، پہلے رہتے تھے گلستان لکھیں
نعمانؔ اعجاز

Comments

comments

You may also like...