Hai Dil-e-Shikasta Udaas Raatain: Urdu Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

Hai Dil-e-Shikasta Udaas Raatain: Urdu Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

 

ہے دل شکستہ اداس راتیں، ابھی یہ فرقت نئی نئی ہے
اڑیں گی نیندیں بڑھے گی ہلچل،ابھی رفاقت نئی نئی ہے
امیر سے کیا غرض ہو مجھ کو،رئیس سے کیا ہو مرا ناتا 
ابھی میں دل کا ملنگ بنوں گا،ابھی حکومت نئی نئی ہے 
کہیں سے گزرے گی یاد ان کی،کبھی تو دل کا چمن کھلے گا 
بہار آئی،بہار آئی،ابھی یہ حسرت نئی نئی ہے
مٹے گی حسرت،بھرے گا ارماں،نجانے کب تک سحر یہ ہوگی 
ابھی شب غم بڑھے گی ائے دل،غموں کی ہجرت نئی نئی ہے
کبھی تو جا کے سکوں ملے گا،یہاں نہیں تو کہیں سہی پھر
کبھی شب غم ٹلے گی ہمدم،ابھی جسارت نئی نئی ہے
یہ دل کہیں پھر قرار پائے،کبھی تو یہ اعتبار پائے
کوئی تو یاں اپنا پیار پائے،ابھی عزیمت نئی نئی ہے
کہیں ملوں گا تو یہ کہوں گا،ہیں فرقتیں ناگوار مجھ کو
مجیب!دل کی پکار سن لو،کہ جس میں الفت نئی نئی ہے.

 

 

Munich Winter

You may also like...