Weshat-e-Hijar Se Hai Qarar: Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum
وحشت ہجر سے بے قرار، لخت جگر ہزار بار
کٹنے لگی ہیں دھڑکنیں، ہونے لگا ہے ایسا وار
ہاں وہ نہیں جفا پرست، ہاں وہ نہیں انا پرست
جس نے دیا ہے اپنا دل،راہ وفا میں بار بار
ہاں میں انہی کو بھول کر،ایسا تعافل کیوں کروں
وہی جو دل میں آ بسا، دل نہ اٹھائے ایسا بار
وقف مہر ہجر تو ہو ہی گئی ہے اپنی جاں
اے دل بتا کہ کیوں کروں،تجھ کو میں ہجر کا شکار
لطف وصال ماہ کا،عالم جان کیا لکھوں!
چھیڑ نہ زکر مہر و ماہ،کر نہ یوں میرا دل فگار
لطف و ضیائے قلب کو،نہ کر رخ سیاہ کار
دل ہے منور و نور بار،کر نہ یوں بغض کا شکار
ہاں میں نہیں وفا پرست، یہ سن کہ ظالم بھی نہیں
تزکرہ اس کا کیا کروں،قافیہ کا ہے اتنا بار
سن لے نوائے قلب و جاں،اتنا تو ناداں نہیں مجیب!
نہ سنے حال دل تو کیا ،اتنا نہیں ہوں گنہ گار