Kabhi Hum Ne Bhi – Urdu Ghazal by Hadia Awan
Kabhi Hum Ne Bhi – Urdu Ghazal by Hadia Awan
کبھی ہم نے بھی اپنا فسانہ لکھا ہوتا
تو محفلِ تنہائی میں ہمراہ کوئی ہوتا
رقصِ فراق آسان بھی ہے، مشکل بھی ہے، ساقی
سازِ دل اب ویسا نہ بجتا، کچھ اور ہی ہوتا
دردِ دل سے واقف اگر وہ بھی کبھی ہوتا
آہِ جاں کو سن کے یہ دل مطمئن ہوتا
جنونِ عشق میں کمی کبھی نہیں دیکھی
چشمِ نم میں سمندر بہہ رہا ہوتا
راتِ تنہا میں اُس کی یاد یوں آتی ہے
جیسے مچھلی کو جال کوئی دکھ رہا ہوتا
ساقی، بارشِ غم کم کیوں نہیں ہوتی؟
صبا کے ساتھ وقتِ وصال بھی آ رہا ہوتا
دریا بہتا نہیں، خاموش کیوں ہے آج؟
شاید دل کا سکوت کوئی جدا ہوتا
دل کے کھو جانے سے در نہیں مگر سوچ
وہ لوٹ آیا تو کیسا وہ بیاں ہوتا
دل لگی کا اظہار بھی ممکن نہیں لگتا
مگر یہ دل اُسی پہ فدا ہوتا
دل لگی دل سے نہیں، دل کے کھو جانے سے ہے
ساقی، عشق تو دل کے فنا ہونے سے ہوتا

