Tazkara Be-Wafa Ki Baat Ka: Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

Tazkara Be-Wafa Ki Baat Ka: Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

غزل
تذکرہ بے وفا کی بات کا ہے
سرد شاموں ہی کی برسات کا ہے
خواب ہے یا کوئی حقیقت ہے
شدت درد اثر عتاب کا ہے
خواب تک ہی نہیں رہا موقوف
سلسلہ موت اور حیات کا ہے
حسرتوں کے تاپ صحرا میں
بے اثر مشورہ نجات کا ہے
یہ جگر تپ کے منہ کو آتا ہے
کیا اثر ہجر کے عتاب کا ہے
اس کا انجام کیا نکالوں پھر
 مسئلہ حیات کی کتاب کا ہے
بے اثر ہے میرا ہر قول اس پہ
دل مجیب!آپ اپنی زات کا ہے
Copyrights registered ®️ under title GulshaneShairi™️ reg# 133641

Urdu Love Poetry

 

You may also like...