غزل
تذکرہ بے وفا کی بات کا ہے
سرد شاموں ہی کی برسات کا ہے
خواب ہے یا کوئی حقیقت ہے
شدت درد اثر عتاب کا ہے
خواب تک ہی نہیں رہا موقوف
سلسلہ موت اور حیات کا ہے
حسرتوں کے تاپ صحرا میں
بے اثر مشورہ نجات کا ہے
یہ جگر تپ کے منہ کو آتا ہے
کیا اثر ہجر کے عتاب کا ہے
اس کا انجام کیا نکالوں پھر
مسئلہ حیات کی کتاب کا ہے
بے اثر ہے میرا ہر قول اس پہ
دل مجیب!آپ اپنی زات کا ہے
Copyrights registered ®️ under title GulshaneShairi™️ reg# 133641