Sar-e-Hayaat Kul Ne: Urdu poem by Saba Khaliq

Sar-e-Hayaat Kul Ne: Urdu poem by Saba Khaliq

سرِ حیات کُل نے سوچنے کی ٹھان لی ہے اب

مگر اب سوچنا کیا ہے؟

یہ نیا اک اچھنبا ہے

مجھے جب ڈالیوں سے نوچ کر

اک حرف پکڑایا تھا میری بھولی میڈم نے

تو میں نے بھی عقیدت میں

اسے مردہ نہ سمجھا تھا

بڑے نازوں سے اس کو ڈھانپ کر بکسے میں رکھا تھا

“حرف کو راز رکھو گے تو سدا شاد رہو گے”

بھولی میری میڈم نے یہی ہم کو کہا تھا۔

اور اب کُل مجھ کو تنگ کرنے کو

،ان سفید سڑکوں پہ

،خدا کی نعمتوں میں چڑھتے بازاروں کے کونوں میں

دانشوروں کی میٹھی میٹھی خواب گاہوں میں

جنہیں نہ میں نے دیکھا ہے نہ میری اماں نانی نے

نیا اک نعرۂ عبدِ حیات گاتا پھرتا ہے

“حرف کو باندھ رکھو گے تو مردہ ذات رہو گے۔”

میں بس یہ عرض کرتی ہوں

!سنو

میں اک بیزار انساں ہوں

میرا کیا کام اُن کی سڑکوں پہ

یا اعلیٰ درسگاہوں میں؟

میں ماضی کے وہ سارے پیارے بکسے بیچ آئی ہوں

انہی نوٹوں سے اماں کا کفن اور موت لائی ہوں۔

 

Saba Khaliq is an educator, researcher and poet based in Rawalpindi/Islamabad, Pakistan. Her poems have appeared in international magazines and journals like The Brussels ReviewThe Missing SlateFahmidan JournalAster Lit and The Lamp. She documents her life and lies on insta @sabaabdulkhaliq_

 

 

 

You may also like...