کیا ہے یہ درد محبت – غزل
کیا ہے یہ درد محبت، کیا تمہیں بتلائیں ہم
حال دل کا جو نہ جانو،کیسے دل دکھلائیں ہم
دل جلا پروانہ وار، شمع بھی دیوانہ وار
سوزش درد جگر ہے،کس طرح بتلائیں ہم
بے خودی بھی یہ نہیں، دل لگی بھی یہ نہیں
درد کا درماں یہی ہے،کیا تمہیں سکھلائیں ہم
آنکھ بند کر کے بھی کوئی حال دل جانے گا کیا
آنکھ کھلنے پر نہ سمجھے، اس کو کیا سمجھائیں ہم
خامشی آواز ہے، سنتے تم پھر بھی نہیں
دل کی باتیں کان سے سنتے نہیں،کیا لائیں ہم
ہجر کا عالم نرالا، وصل کا موسم انوکھا
آتشیں دونوں طرف ہیں،آستیں دکھلائیں ہم
اے مجیب!حب وصال اک بلا دل واسطے
ہجر میں تڑپے جو دل،تو دعا سکھلائیں ہم

