Kuch Unka Qasoor Bhi: Poem by Ibrahim Mustafa
Kuch Unka Qasoor Bhi: Poem by Ibrahim Mustafa
کچھ انکا قصور بھی تھا کچھ میری خطا بھی تھی
ہم مل نہ سکے دنیا میں مرضی خدا کی تھی
انجانے راستوں پر سفر کررہے تھے ہم
چل پڑے کہاں اور منزل کہاں پہ تھی
پوچھتے ہیں مجھ سے کارواں والے
گر عشق سچا تھا پھر کمی کہاں پہ تھی
دل پہ ہوتا اختیار تو رسوائی یوں نہ ہوتی
طلب کہاں کی تھی اور قسمت کہاں پہ تھی
یہ سوچ کر بھی من کو بہلا لیتے ہیں ہم
عاشق بھی بن گئے ورنہ اتنی جرآت کہاں پہ تھی
مصطفی کو پھر سے سچے عشق کی تلاش ہے
دعا کرو نہ ملے اسے وہ اذیت جو مجنوں كى جان پہ تھی

