اس احساس الفت میں کمی آئی نہ آئے گی
اس درجہ محبت میں کمی آئی نہ آئے گی
وفا سے جو بھٹک جائے،وہ منزل پا نہیں سکتا
اس عہد محبت میں،کمی آئی نہ آئے گی
شب ہجراں کی تابش نے منور کر دیا دل کو
پھر اس نور فرقت میں کمی آئی نہ آئے گی
خیال یار جب دل پر مکمل نقش ہو جائے
اب تو دل کے اشکوں میں،کمی آئی نہ آئے گی
بہار گلستاں سے اے مجیب!ہو غرض کیا مجھ کو
دیار دل کی وسعت میں، کمی آئی نہ آئے گی

