Humaray Dil Ka Bharam: Urdu Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

Humaray Dil Ka Bharam: Urdu Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

غزل
ہمارے دل کا بھرم کچھ تو رکھ لیا ہوتا 
تمہیں یہ دل جو ملا تھا تو رکھ لیا ہوتا 
میں تو بیزار نہیں آپ وفا دار نہیں 
کہ میرے دل کی خلش کو بھی سن لیا ہوتا 
جو تشنہ لب ہوں انہیں ہی تو جام ملتا ہے 
کہ چشم ساقی زرا یہ بھی سن لیا ہوتا 
خدا ہی جانے کہ دل کتنے ہی تڑپتے ہیں 
پیام ہجر کا تھا، کچھ تو پڑھ لیا ہوتا
تڑپتے دل پہ نگاہ کرم جو کر لیتے 
علاج دل کی لگی کا بھی مل گیا ہوتا 
برائے نام سکوں دل کو مل گیا ہوتا
کبھی جو تھام کے دل نام لے لیا ہوتا 
مجیب! شکوہ نہیں اہل دل کیا کرتے 
مگر خوشی سے کبھی حال دل سنا ہوتا 
یہی قوافی، ردائف سخن کی رسمیں ہیں 
نہیں ہے شکوہ مجیب! یوں نہ دل جلا ہوتا 
Copyright registered under title: Gulshane Shairi 
urdu ghazal love

You may also like...