غزل
ہمارے دل کا بھرم کچھ تو رکھ لیا ہوتا
تمہیں یہ دل جو ملا تھا تو رکھ لیا ہوتا
میں تو بیزار نہیں آپ وفا دار نہیں
کہ میرے دل کی خلش کو بھی سن لیا ہوتا
جو تشنہ لب ہوں انہیں ہی تو جام ملتا ہے
کہ چشم ساقی زرا یہ بھی سن لیا ہوتا
خدا ہی جانے کہ دل کتنے ہی تڑپتے ہیں
پیام ہجر کا تھا، کچھ تو پڑھ لیا ہوتا
تڑپتے دل پہ نگاہ کرم جو کر لیتے
علاج دل کی لگی کا بھی مل گیا ہوتا
برائے نام سکوں دل کو مل گیا ہوتا
کبھی جو تھام کے دل نام لے لیا ہوتا
مجیب! شکوہ نہیں اہل دل کیا کرتے
مگر خوشی سے کبھی حال دل سنا ہوتا
یہی قوافی، ردائف سخن کی رسمیں ہیں
نہیں ہے شکوہ مجیب! یوں نہ دل جلا ہوتا
Copyright registered under title: Gulshane Shairi

