Hum Wafaon Ki Challo Aaj: Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum

غزل 

ہم وفاؤں کو چلو آج آزما لیتے ہیں
ہم انہیں پھر سے اپنا بنا لیتے ہیں
آج برسات میں پھر ملے گا مزہ
اس کی یادوں کا مسکن بنا لیتے ہیں
جنبش لب کی جرأت بھلا کیوں کریں
اشک سے حال دل جب سنا لیتے ہیں
بھول تو یہ ہوئی،بھول پائے نہ ہم
آج پھر دل سے ان کو بھلا لیتے ہیں
ورد یہ دل کی دھڑکن نے ہر دم کیا
اب تمہیں اپنا محرم بنا لیتے ہیں
دل کے زخموں کی سوزش کا یہ ہے علاج
درد دل کو ہی مرہم بنا لیتے ہیں
خدمت خلق سے جو بھی پائیں خوشی
عرش والوں سے بھی وہ دعا لیتے ہیں
اے مجیب!دل کے زخموں کا مرہم تو دیکھ
وہ ستم گر بھی خود ہی دعا لیتے ہیں

 

Mujeeb Ur Rehman Anjum - Urdu Poetry

 

You may also like...