Hai Ye Andaaz-e-Ulfat: Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum
ہے یہ انداز الفت جدا، کوئی دل لگی تو نہیں
درد سارا ہے دل میں بسا،آنکھ میں کچھ نمی تو نہیں
ٹوٹ کر کیا بکھر جائیں ہم،تم سے بچھڑے کدھر جائیں ہم
راہ الفت میں مر جائیں ہم،زندگی کی کمی تو نہیں
کوئی جب دل کو اپنا لگے،پھر تو رنگین سپنا لگے
بالیقیں!اس جہاں میں وفا ملتی کہیں تو نہیں
سرد موسم کی پرچھائیاں،اور ظلمت کی گہرائیاں
ہوگئیں سب نظر میں نہاں،اب رہی روشنی تو نہیں
دل سے ہے اپنا مانا جسے، غیر پھر بھی نہ جانا جسے
دل پہ اتنے ستم جو کیے،اور گئی عاشقی تو نہیں
مجھکو اعزاز فرقت ملا، پھر کہاں حسب فرصت ملا
دل یہ زیر مصیبت ملا،اور ٹلی رات بھی تو نہیں
اپنا دلبر اسے مانیے،اپنا راہبر اسے جانیے
جسکی نظروں میں منزل ملے،ورنہ کوئی کمی تو نہیں
اے مجیب!اپنے دل کی کہو،دھڑکنوں کی کہانی سنو
اپنے دل کی زبانی سنو،پھر کسی نے سنی تو نہیں