درد کو دل میں اپنے، بسائے بیٹھے ہیں
دل کو یوں درد کی صورت بنائے بیٹھے ہیں
وہ بھی دن تھے بے بلائے ہی آجاتے تھے
اب تو وہ دل کی راہیں بھلائے بیٹھے ہیں
کوئی مقروض مروت بھی تو ٹھہرے ہونگے
یاں کچھ ایسے ہیں مروت ہی بھلائے بیٹھے ہیں
بے حسی مار کر ہستی کو ہے مٹانا لازم
کچھ یہاں انا کے بت دل میں بسائے بیٹھے ہیں
کچھ دیکھے جاتے ہیں منزلیں وفا کی، دل کی
کچھ عالی ظرف کہ، یہ راہیں مٹائے بیٹھے ہیں
اے مجیب! رہبر و رہنمائے وفا کچھ نہ رہے
ایک ہم ہیں کہ شمع جلائے بیٹھے ہیں

