Hasti K Din Yun: Urdu Ghazal by Mujeeb Ur Rehman Anjum
ہستی کے دن یوں گزرنے لگے ہیں
نکھرنے لگے ہیں،سنورنے لگے ہیں
لحمہ بہ لمحہ بکھرنے لگے ہیں
یادوں میں ہر دم تڑپنے لگے ہیں
کہیں سے اے دل گر کوئی یاد گزرے
تو یادوں میں ہی دن گزرنے لگے ہیں
کوئی دل کو صورت سہارا دلاوے
کہ بس ہجر میں اب تڑپنے لگے ہیں
کوئی آس آوے،نہ پھر پاس آوے
یہی دل کے ارماں الجھنے لگے ہیں
تیری اک زیارت کا مژدہ کوئی دے
کہ ہم ہجر میں اب بکھرنے لگے ہیں
کوئی دل کے آنگن میں خوشبو بکھیرے
خزاں کے یہ سائے جلانے لگے ہیں
بہارم بہارم کہ من خوش نویدم
خبر یہ سناؤ وہ آنے لگے ہیں
مجیب! اب تو تم اپنے دل کو سنبھالو
تمہاری ہی جانب وہ آنے لگے ہیں