Aurat ki Aurat Dushman: Urdu Article on Aurat March by

aurat-march poster apna time

Aurat-march poster – Apna time agya

 

عورت کی عورت دشمن

ہمارے معاشرے میں اگر کوئی عورت کا کوئی اصل دشمن ہے تو وہ عورت ہی ہے۔ وہ چاہے کسی بھی روپ میں ہو ماں، بہن، ساس، دوست حتاکہ کوئی بھی جائز نا جائز رشتہ ہوسب ایک ہی صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں عورتوں کی آزادی کا اظہار جوئے شیر لانے کے متارادف ہے۔ اور ایسے موقع پرعورتوں ہی کی طرف سے کج عقلی اور نطریہ کا فقدان اس امر پہ قیاس ہے کہ وہ اپنی اور اپنے جیسیوں کی خود دشمن ہے۔

ایک بل بورڈ کی تصویر سوشل میڈیا پہ گردش کرتی ہوئی نظر آئی۔جس میں شادی سے بھاگنے کے لیے “کریم بائک” کا ذکر تھا اور ساتھ ایک دوشیزہ جوڑا عروسی میں واضح نظر آرہی تھی۔ یہ اشتہار کسی ایٹم بم سے کم نہیں تھا۔ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوا اور ساتھ ہی اس اشتہار کو پاکستان کی علاقائی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کی پامالی کا نشتر بنا دیا گیا۔ یہ اشتہار ایک ایسے موقع پر آویزاں کیا گیا جب کچھ سر پھری عورتوں نے اپنے حقوق کی آزادی کے لیے آواز آٹھائی اور اس کا درد بہت ساروں کی ذہنوں سے ابھی اترا نہیں تھا۔

تھوڑا تذکرہ عورت مارچ کا بھی کیا جائے۔ ناقدین نے کس کمال جانفزانی سے اس تحریک کے محرکات کو مغرب سے منسوب کیا اور تحریک کا مقصد فوت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور خصوصا اسی چیز کو بڑھاوا دیا جس سے خالصتا ان خواتین و حضرات کے جذبات مجروح ہوئے اور یوں ہمارے دماغوں کے غنچے بن کھلے مرجھا گئے۔ یہاں یہ بحث نہیں کہ جو پوسٹر وجہ تنقید بنے وہ قابل اعتراض تھے یا نہیں بلکے سوال ان اصل اور معنی خیز پوسٹر کا ہے جو چیختی صدائیں تھی۔ جن کی کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوتی اور جنہیں صحیح معنوں میں پزیرائی ملنی چاہیے تھی، نہ ملی۔ اور کمال طریقہ کار سے ان کو پس پردہ کر دیا گیا۔ جوکہ ہماری عقلی فہم و فراست اور معاشرتی اقدار پہ سوالیہ نشان ہے۔

میرا ان خواتین سے بھرپور گلہ ہے جوکہ مکمل آزاد ہیں اور انہی تمام وسائل کو ہمہ وقت استعمال بھی کر رہی ہیں جو پوسٹر وجہ تنقید بنے۔ ایک ایسی تحریک جو مستقبل قریب میں نہ صرف فعال ہو سکتی تھی بلکہ موئثر نتائج بھی پیدا کر سکتی تھی، لیکن جس بے دردی سے سبوتاژ کیا اس کی مثال نہیں۔

اس معاشرے میں عورتیں ننانوے فیصد مردوں کی جسمانی اور گھریلو خواہشات کو پورا کرنے میں جتی رہتی ہیں۔ اور پھر یہی خواتین خود اپنے جیسی دوسری اور نئی جنم لینی والیوں کو کبھی مرد کے ڈر سے، کبھی نسوانی بغض اور بلخصوص کم عقلی کی وجہ سے روایات کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔ایسا معاشرہ جس میں مرد اپنے ذاتی مفاد، غیرت، ضرورت اور بسا اوقات معاشرتی دباوٗ کی وجہ سے کسی بھی وقت عورت کا استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے میں عورتوں کی کج عقلی اور خاموشی سے بڑا ظلم اور سفاکی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔

 

 

 

Comments

comments

You may also like...