حُسن رَو ہے بِجلی کی: Urdu Poem by Kawish Abbasi

asian-woman



 حُسن رَو ہے بِجلی کی ، عِشق لا اُبالی ہے
 دیکھ کر ڈری دُنیا ، آفَت آنے والی ہے

 یہ جو سارے کمرے میں بھر گئی ہیں چہکاریں
 میرے دِل کی دھڑکن ہے ، تیرے لَب کی لالی ہے

 آپ کی ہنسی کی اِک مُلتفِت کِرَن ہم نے
 اپنے پاس رکھ لی ہے، آپ سے چُرا لی ہے

 دِل کا حال کیا کہئے، پتّھروں کے شہروں میں
 ٹُوٹا اِک پیالہ ہے ، پیاسہ اک سوالی ہے

 لہر میں جنوں کی یوں بھی کبھی ہُوا ہم نے
 اپنی حالت و صُورَت، خود سے بھی چُھپا لی ہے

 ایک خواب رہتا ہے ، میری روشن آنکھوں میں
 ہم نے اپنی ہر زنجیر ، آپ توڑ ڈالی ہے

 ایک اُفَق ہے ایسا بھی میرے خوش تخیّل میں
 جس میں سب اُمنگوں پر حُریّت کی لالی ہے

 جِن کے سِحر و مستی میں ، مَیں پِئے سا رہتا ہوں
 اِک رُخِ حقیقی ہے ، اِک بُتِ خیالی ہے

 کچھ نہ بِگڑے دُنیا کا ، مِل بھی جائیں ہم اور تم
 آرزو عجَب میری ، جُستجو نِرالی ہے

 شِعر کہتے ہو کاوِش ، اُن سے کچھ نہیں کہتے
 کیسا یہ غمِ بے نام ، کیا کسَک یہ پالی ہے

Comments

comments

You may also like...